محمود ساغر کا شبیر احمد شاہ کی علالت پر اظہار تشویش، رہائی کی اپیل

اسلام آباد: ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی( ڈی ایف پی) نے غیر قانونی طورپر نظر بند پارٹی سربراہ شبیر احمدشاہ کی نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں شدید علالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقو ق کے عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ انکی رہائی کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میںکہا کہ پروسٹیٹ کینسر کا شکار شبیر احمد شاہ کو فوری سرجری کی ضرورت ہے لیکن بھارتی حکام انہیں فوری طبی امدار فراہم نہ کر کے انکی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ شبیر احمد شاہ کے اہلخانہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ محمود احمد ساغر نے کہا کہ بھارت شبیر احمد شاہ اور دیگر نظر بند مزاحمتی رہنماﺅں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے پر بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نظر بند رہنماﺅں کو طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ،دلی ہائیکورٹ نے حال ہی میں شبیر احمد شاہ کو درخواست ضمانت بھی مسترد کی ۔ انہوں نے کہا کہ نظر بند رہنماﺅں کو جھوٹے مقدمات میں مسلسل قید اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر آہستہ آہستہ موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے ۔محمود احمد ساغر نے شبیر احمد شاہ اور دیگر نظر بند رہنماﺅں کے عزم و ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جبر انکے حوصلے توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت ایک طرف مقبوضہ علاقے میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس نے پورے علاقے کو ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل اور پوری حریت قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں امن کا بھارتی بیانیہ ایک جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائمقام چیئرمین نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شبیر احمد شاہ کی علالت کا نوٹس لے اور ان سمیت تمام اسیر حریت رہنماﺅں کی رہائی کے لیے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔ شبیر احمد شاہ 2017سے تہاڑ جیل میں جھوٹے مقدمات میں نظر بند ہیں۔
دریں اثنا جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ (جے کے وائی ایم ایل) نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ کو ضروری طبی امدادکے بغیر مسلسل غیر قانونی حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی وکالت پر اپنی زندگی کی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بھارتی جیلوں میں گزار چکے ہیں ، کشمیری سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ بیان میں شبیر احمد شاہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔







