کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے کشمیری نظربندوں کی رہائی کامطالبہ

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپربند حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں حریت اراکین کے ایک اجلاس کے بعد جاری بیان میں نئی دلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، ایاز اکبر، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی اور دیگر کو تہاڑ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھاجارہاہے جس کی وجہ سے وہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔اجلاس میں گزشتہ سات سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پرحریت رہنمائوں اور کشمیری نوجوانوں کی ثابت قدمی اور عزم کا خیرمقدم کیاگیا۔مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکا ہے جہاں ہر کشمیری مسلسل خوف اور دہشت میں زندگی بسرکررہا ہے۔اجلاس میں حریت رہنمائوں کے ساتھ بھارتی جیل حکام کے امتیازی اور جارحانہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا جو کہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اجلاس کے شرکاء نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا فوری نوٹس لیں اور انکی رہائی کیلئے کردار ادا کریں۔انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس نے ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کیاپنے اصولی موقف کی حمایت کی ہے جو مہذب دنیا میں تنازعات کے حل کا سب سے منصفانہ اور پرامن طریقہ ہے۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان پر اس دیرینہ تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر زوردیا۔حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جیلو ں میں قید تمام سیاسی رہنمائوں، کارکنوں، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اورکشمیری نوجوانوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا اپنا مطالبہ دوہرایا۔انہوں نے مودی حکومت پرزوردیاکہ وہ غیر قانونی نظربندی کا لوگوں کو ہراساں کرنے کیلئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال بند کرے۔
ادھر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن موسوی الصفوی نے ایک بیان میں تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنماء شبیر احمد شاہ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔انہوں نے شبیر شاہ کی رہائی اور انہیں علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی پر زوردیا۔انہوں نے بھارتی حکومت سے شبیر شاہ کے اہلخانہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری پرویز شاہ نے ایک بیان میں دلی ہائی کورٹ کی طرف سے شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناانصافی قرار دیاہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دانستہ غفلت محمد اشرف صحرائی اور الطاف احمد شاہ جیسی ممتاز کشمیری سیاسی آواز کوجیل میں قتل کرنے کی ایک منظم ساز ش کا حصہ ہے ۔





