مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر میں سڑک پر اسرائیلی پرچم کی گریفٹی بنانے پر نو عمر بچیوں سے تفتیش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے سرینگر میںسڑک پر اسرائیلی پرچم کی گریفٹی بنانے پر تین نو عمر بچیوں سے تفتیش کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میںلوگوں کو غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی اورایران کے خلاف اس کے بلا اشتعال حملوں کے خلاف احتجاج سے روک دیا ہے۔بھارتی پولیس نے اس طرح کی تازہ ترین کارروائی میںسرینگر کے علاقے جڈی بل میں ایک امام بارگاہ کے مرکزی دروازے کے باہر سڑک پر بنائی گئی اسرائیلی پرچم کی گریفیٹی مٹادی۔پولیس نے مبینہ طورپر اس میں ملوث تین مقامی نوعمر بچیوں کو پولیس سٹیشن میں طلب کیا جہاں انہیں ہراساں کیا گیا اور مستقبل میں اسرائیل کے خلاف احتجاج نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکام نے کسی بھی اسرائیل مخالف مظاہرے یا صیہونی حکومت کے خلاف توہین آمیز اقدامات پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے مودی حکومت کی مضبوط حمایت کا واضح اظہار ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارت نے امریکی B-2اسٹیلتھ بمبار طیاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button