بھارتی فوجی تشدد کی زنجیروں میں جکڑی جنت, تشدد کے متاثرین کا عالمی دن اور کشمیر کی چیختی ہوئی خاموشی
کے۔ایس کشمیری kskashmir@gmail.com
26 جون تشدد کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن کے طور پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد 26 جون 1987کو رکھی گئی، جب اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے تشدد کے خلاف (UN Convention Against Torture) کو باضابطہ نافذ کیا گیا اور مقصد تھا کہ دنیا بھر میں تشدد (Torture) کے خاتمے، متاثرین کی بحالی، اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اورتشدد کی تمام اقسام کی مذمت کرنا جسمانی، ذہنی، جنسی یا نفسیاتی تشددکے متاثرین کی بحالی کے لیے حمایت فراہم کرنا اور حکومتوں پر زور دینا کہ وہ تشدد کو جرم قرار دیں تاکہ انصاف کو یقینی بنائیں. انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے Amnesty International، Redress, اور UN Human Rights Office ریلیاں، تقاریر، سیمینارز، اور سوشل میڈیا مہمات چلاتی ہیں جبکہ کئی ممالک میں متاثرین کی کہانیاں شیئر کی جاتی ہیں تاکہ آگاہی اور ہمدردی پیدا کی جا سکے۔ یوں دنیا بھر میں ہر سال 26 جون کو تشدد کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کی طرف سے ظلم، جبر، اور غیر انسانی سلوک کے خلاف عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے کے لیے مخصوص ہے لیکن اس دن کا سب سے گہرا عکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں نظر آتا ہے، جہاں بھارتی افواج کی جانب سے جاری ریاستی جبر نے ہزاروں کشمیریوں کو جسمانی، ذہنی، اور نفسیاتی تشدد کا شکار بنایا ہے۔
بھارتی فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈوں میں جسمانی تشدد،نفسیاتی تشدد،جنسی تشدد، اجتماعی سزا شامل ہے جسمانی تشدد میں مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے، ناخن کھینچنا، زخم دینا جبکہ نفسیاتی تشدد میں ڈرانا دھمکانا، جھوٹی ایف آئی آر، بند کمروں میں تنہائی میں رکھنا جبکہ جنسی تشدد خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانا، برہنہ کر کے تذلیل کرنا کنن پوش پورہ جیسے سانحات میں اجتماعی زیادتی جیسے ہولناک جرائم منظر عام پر آئے۔یوں خواتین پر جنسی تشدد کو بطور جنگی ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا رپا ہے۔ اجتماعی سزا محاصرے، کرفیو، انٹرنیٹ بندش اور املاک کی تباہی شامل ہے۔ بھارتی فوجی کشمیریوں کے خلاف اس تشدد کو بطور ہتھیار بھی استعمال کرتے ہیں ۔ اس تشدد کے نتیجے میں ہزاروں افراد ذہنی دبا، ڈپریشن، اور (PTSD )Post-Traumatic Stress Disorder ایک نفسیاتی بیماری ہے جو کسی شدید خوفناک، تکلیف دہ یا جان لیوا واقعے کے بعد لاحق ہوتی ہے۔ یہ بیماری متاثرہ شخص کی سوچ، احساسات، نیند، رویے اور زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کا ظلم صرف آزادی پسند نوجوانوں یا سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں تک محدود نہیں رہا۔ وہاں کے دانشور طبقے، پیشہ ور افراد، اور معاشرتی رہنماں کو بھی منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو قوم کو بیدار، متحد، اور باعزت مستقبل کے لیے تیار کر رہے تھے۔کشمیری عوام پر پیلٹ گنز، مار پیٹ، اور دورانِ حراست قتل تو عام معمول بن چکا ہے۔ سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھیں چھین لی گئیں، کئی زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو گئے۔ بھارتی فوج رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے مارتی ہے، بچوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے، خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ سب کشمیری عوام کے ذہنوں پر گہرے زخم چھوڑ چکا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نفسیاتی مریض بن چکی ہے۔بدقسمتی سے عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور بڑے میڈیا ہاوسز اس سنگین صورتحال پر خاموش یا بے اثر نظر آتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، وہاں اقوامِ متحدہ، عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری متحرک ہو جاتی ہیں۔ مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی فوج کی جانب سے جسمانی، نفسیاتی، جنسی اور اجتماعی تشدد پر دنیا کی خاموشی نہ صرف افسوسناک ہے ۔بلکہ انسانیت پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اور او آئی سی جیسے ادارے بیانات تو دیتے ہیں، مگر عملی اقدامات سے گریز کرتے ہیں۔عالمی میڈیا میں کشمیر کی آواز کو وہ جگہ نہیں ملتی ہے۔ بھارت صحافیوں کو کشمیر میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا، مقامی رپورٹرزآ واز بلند کریں اُن کو گرفتار کیاجاتا ہے اور اُن کے خلاف دہشت گردی کی سنگین مقدمات چلائے جاتے ہیں
جنت نظیر وادی، آج دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل چکی ہے۔ اس حسین وادی میں نہ چنار کی سرخیاں سلامت ہیں، نہ بچوں کی مسکراہٹیں۔ وجہ صرف ایک ہے بھارتی فوج کا بے رحم تشدد، ظلم اور جبر کشمیری مسلمان صرف اپنی شناخت اور آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن ان کی آوازوں کو بندوقوں، پیلٹ گنوں اور عقوبت خانوں میں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی جیلیں کشمیریوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہاں بجلی کے جھٹکے، ناخن نکالنا، برہنہ کر کے مارنا، اور پانی سے محروم رکھنا جیسا ظالمانہ سلوک عام ہے۔ کئی نوجوان واپس آتے ہیں تو صرف لاش بن چکے ہوتے ہیںت شدد ایک ایسا عمل ہے جو صرف جسم کو ہی نہیں بلکہ روح کو بھی زخمی کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے متاثرین ہماری آواز ہمدردی اور عملی حمایت کے مستحق ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والا ظلم دنیا کے سب سے طویل اور خاموش المیوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کوکشمیریوں پر جاری بھارتی فوجی تشدد پر اقدام، اتحاد اور حق گوئی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ظلم سہنے والا اور ظلم کرنے والا، دونوں خدا کے نزدیک گناہ گار ہیں، مگر خاموش تماشائی بھی کچھ کم نہیں۔بھارتی فوج کے مظالم کی داستان ایک چیخ ہے وہ چیخ جو پہاڑوں میں گونجتی ہے، ندیوں میں بہتی ہے، اور شہدا کے لہو سے لکھی جا رہی ہے۔ یہ داستان وقتی طور پر دب سکتی ہے، مٹ نہیں سکتی۔ ایک دن آئے گا جب ظلم کا اندھیرا چھٹے گا اور کشمیرکے ہر گلی کوچے میں اذان سحر گونجے گی، پرچم لہرائے گا اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
تحریر ۔کے ایس کشمیری kskashmiri@gmail.com







