بھارتی مظالم کے شکار کشمیری بچے اور اقوام عالم کی ذمہ داری
دنیا بھر میں ہر سال 20 نومبر کو عالمی یوم اطفال منایا جاتا ہے۔ یہ دن بچوں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مختص ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں سرگرمیاں کی جاتی ہیں جن کا مقصد بچوں کو تعلیم، کھیل، صحت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا اور ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ بچوں کا یہ عالمی دن جو بچوں کو تحفظ، مساوی مواقع اور اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن بدقسمی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بچے بھی سال کے دیگر دنوں کی طرح اس دن کو بھی بھارتی قابض فورسز کے مسلسل مظالم اور خوفزدہ ماحول میں گزارتے ہیں ہزاروں کشمیری بچے اپنے والدین کی گرفتاری، تشدد یا جبری گمشدگی کی وجہ سے یتیم یا نیم یتیم ہوگئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی چھاپوں، رات کے وقت گھروں پر دھاوا، اور گلی محلوں میں بھارتی فوج کی موجودگی سے بھی خوف اور صدمے کے ماحول میں یہ بچے زندگی گزار رہے ہیں ۔
جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے مظالم کے نتیجے میں لاکھوں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق 1989 سے اب تک 108,005 سے زائد کشمیری بچے والدین کی شہادت کے بعد یتیم ہو چکے ہیں۔ یہ بچے اپنی بچپن کی معصومیت، محبت اور تحفظ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہر یتیم بچے کے پیچھے ایک دردناک کہانی ہے، ایک ٹوٹا ہوا خواب ہے اور ایک محروم بچپن۔ ان کشمیری یتیم بچوں کو نہ صرف والدین کی محبت سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ وہ مسلسل خوف، تشدد اورخوف کے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ زیادہ تر یتیم بچے جعلی مقابلوں یا بھارتی فوجی عقوبت خانوں میں تشدد سے اپنے والدین کو کھو چکے ہیں جس سے ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی ہے اور وہ صدمے، خوف اور عدم تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوجی بندوقوں کے سائے میں کشمیری بچے ایسے ماحول میں پل رہے ہیں جہاں ان کی ذہنی اور جذباتی صحت شدید متاثر ہو چکی ہے۔ وہ مسلسل صدمے، خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنے والدین اور پیاروں کو بھارتی ریاستی تشدد اور فورسز کے مظالم میں کھونے والے یہ بچے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی طور پر بھی شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ یہ بچے خوف کے ماحول میں جیتے ہیں بھارتی جبر نے انہیں محبت، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ بچوں کی عالمی دن کے موقعے پردنیا کو چاہیے کہ وہ کشمیری بچوں کی حالت زار پر توجہ دے اور انسانی حقوق کے عالمی ضوابط کے مطابق فوری اقدامات کرے۔ ہر یتیم، ہر زخمی اور ہر خوفزدہ بچہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اور مدد کا مستحق ہے۔
حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں صرف 10 سے 15 سال کے بچے گرفتار ہوئے، کئی کو جعلی مقدمات میں قید کر کے اذیتیں دی گئیں۔ ان بچوں کو اکثر فوجی چھاپوں کے دوران گرفتار کیا جاتا ہے، ان کے والدین یا خاندان کے سامنے بدسلوکی کی جاتی ہے، اور انہیں خوف و دہشت کے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بچوں کی گرفتاریاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، لیکن بھارتی حکام کی طرف سے یہ روایتی مظالم کا حصہ بن چکی ہیں، جو کشمیری بچوں کی معصومیت اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ سینکڑوں کشمیری بچے بھارتی فورسز کی پیلٹ گن کے وحشیانہ استعمال کے باعث اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ معصوم بچے، جو کھیل یا تعلیم میں مصروف تھے، اچانک مستقل اندھیروں میں دھکیل دیے گئےان کے لیے زندگی اجیرن بن چکی ہے، کم عمر بچے، جو اپنی تعلیم اور کھیل کے معمولات میں مصروف رہنے کے حق دار ہیں بھارتی فوجی چھاپوں اورتلاشی کاروائیوں کے دوران جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بچے چھاپوں کے دوران گھروں سےپکڑ کر قریبی فوجی کیمپوں لےجاکر انتہائی تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔
کشمیر میں ہزاروں بچے ایسے بھی ہیں جن کے والدین بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ یہ معصوم بچے اپنے والدین کی محبت، دیکھ بھال اور رہنمائی سے محروم ہیں اور ہر لمحہ ان کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔ والدین کی غیر موجودگی میں بچے شدید نفسیاتی دبا، خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم، کھیل اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہے، اور وہ یتیم یا نیم یتیم بچوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی یوم اطفال کے موقع پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کشمیری بچوں کی حالت نہ صرف انسانی حقوق کے لیے ایک بحران ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور بچوں کے حقوق کے کنونشن کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی یہ جارحیت نہ صرف کشمیری بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ پوری کشمیری نسل کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری بچوں کی حالت پر فوری توجہ دے اور بھارت کو ان کے حقوق کی خلاف ورزی بند کرنے پر مجبور کرے۔ کشمیری بچوں کو امن، تعلیم اور کھیل کے مواقع فراہم کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ اقوام عالم کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ عالمی برادری کی فعال توجہ، اقدامات اور دبا ہی کشمیری بچوں کے لیے محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یہ عالمی یوم اطفال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر بچہ معصوم اور قیمتی ہے، اور اس کے حقوق کی حفاظت کرناانسانی حقوق کے نام پر بننے والے عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کشمیری بچے، جو دہائیوں سے ظلم و بربریت کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے تحفظ اور مستقبل کے لیے عالمی سطح پر شعور اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ بچوں کے عالمی دن کے موقعے پر کشمیری ایک روشن امید رکھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن عالمی ضمیر ان کی خاموش آواز کو سنے گا۔ کشمیری بچوں کا بھی امن کا خواب ہے کہ وہ بھی امن اور حفاظت کے ماحول میں اپنی زندگی گزار سکیں، کھیل سکیں، تعلیم حاصل کر سکیں اور اپنی معصومیت کے ساتھ بچپن جئیں۔ یہ امید اور صبر کشمیری بچوں کی مظلومیت کے بیچ ایک روشنی کی مانند ہے، جو عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ ان بچوں کے حق میں عملی اقدامات کرے اور کشمیری بچوں کو بھی بھارتی جبر سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔
کے ایس کشمیری







