مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر : انتظامیہ نے امرناتھ یاترا کی سیکورٹی کے نام پر پابندیاں مزید سخت کردیں

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے ہندو امرناتھ یاترا کی سیکورٹی کے نام پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں اور ہزاروںکی تعداد میں اضافی فورسز اہلکار علاقے میں تعینات کر دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو گی اور یہ 9 اگست تک جاری رہے گی۔
بھارتی حکومت نے یاتریوں کی حفا ظت کی آڑ میں ایک لاکھ کے قریب اضافی فورسز اہلکار مقبوضہ علاقے میں تعینات کر دیے ہیں ۔ سری نگر جموں شاہراہ کے اہم مقامات پر ماہر نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے ہیںجبکہ یاتریوںکے قافلوں کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جائے گی جبکہ جدید ہتھیاروں سے لیس بھارتی فورسز اہلکار انکی حفاظت پر مامور ہونگے۔
یاد رہے کہ مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت ہندو امرناتھ یاترا کے بحفاظت انعقادکے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے جبکہ اس نے دیگر آزادیوں کیساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی سلب کر رکھی ہے۔ مسلمانوںکو جمعہ اور عید کی نماز سے اکثر روکا جاتا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کو 05 اگست 2019 سے عید کی کوئی نماز ادا نہیں کرنے دی گئی، جامع مسجد سرینگر اور عید گاہ سرینگر اگست 2019سے عید نماز کیلئے مسلسل بند ہیں۔ بھارتی انتظامیہ نے کئی کشمیری علمائے دین کو بھی برسہا برس سے نظر بند کر رکھا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button