جموں و کشمیر لبریشن الائنس کابھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری رہنمائوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر اظہار تشویش
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں جموں و کشمیر لبریشن الائنس نے بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری رہنمائوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہارکیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اس حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت حریت پسند کشمیری قیادت کو جیلوں میں قتل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شبیر احمد شاہ ، محمد یاسین ملک ، محمد قاسم فکتو ، ڈاکٹر حمید فیاض ، مشتاق الاسلام ، فاروق احمد ڈار ، پیر سیف اللہ ، ایاز اکبر ، سید شکیل احمد ، سیدہ آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی دیگر نظربند کشمیری رہنما مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں اور مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوںنے افسوس کااظہارکیاکہ غلام محمد بٹ ، محمد اشرف صحرائی ، الطاف احمد شاہ اور بزرگ قائد سید علی گیلانی جیسے حریت قائدین کی جانیں بھی نظربندی کے دوران اسی غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کے باعث ضائع ہوئیں مگر عالمی ضمیر پھر بھی خوابِ غفلت میں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی یہ خاموشی بھارتی مظالم کی بالواسطہ حمایت نہیں ہے؟ سجاد میر نے کہا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کے طے شدہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے جس نے جیلوں کو اذیت خانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ سجاد میر نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالتِ زار کو عالمی سطح پر اجاگر کریں اور بھارت پر دبائو ڈالیں تاکہ کشمیری نظربندوں کو انسانی حقوق اور علاج معالجے کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔





