بارہمولہ میں 9 محرم الحرام کے جلوسوں پر پابندی عائد
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی حکام نے ضلع بارہمولہ کے کئی علاقوں میں 9محرم الحرام کے روایتی جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ پابندی بارہمولہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے لگائی گئی ہیں تاکہ بقول ان کے کسی بھی ممکنہ گڑبڑ کو روکا جاسکے۔جن علاقوں میں جلوسوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پٹن کے علاقے میرگنڈ، میرچیمار اور دیگر ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ پابندی کا فیصلہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارہمولہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر کیاگیا ہے جس میں9محرم کے روایتی جلوسوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔جلوس کا اہتمام روایتی طور پر میرچیمار محلہ کمیٹی کرتی ہے۔ایس ایس پی کی رپورٹ میں بھارتی وزارت داخلہ کے مارچ 2025کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں اتحاد المسلمین کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت غیر قانونی تنظیم قرار دیا گیا تھا۔تنظیم پر یہ پابندی اس کی آزادی پسند سرگرمیوں کی وجہ سے لگائی گئی تھی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے 4جولائی کی شام 8:30بجے سے 5 جولائی کی رات 9:30بجے تک پابندیاں عائد کی ہیں۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران مذکورہ علاقوں میں چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔جلوسوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ اعلانات یا تقاریر کے لیے لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔





