مضامین

چین پہ گرج،تُرکیہ پہ طعنہ

فرانس،امریکہ بارے کیوں نہ کوئی بہانہ؟

تحریر: ارشد میر


پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مئی کی جنگ نے جنوبی ایشیاء کے سیاسی و عسکری منظرنامے کو ایک مرتبہ پھر ہلا کر رکھ دیا۔ اس جنگ کے دوران نہ صرف پاکستان نے عسکری محاذ پر بھرپور کامیابی حاصل کی بلکہ سفارتی و ابلاغی محاذوں پر بھی بھارت کو چاروں شانے چت کر دیا۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیانات نے بھارتی بیانیے کا پردہ فاش کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت کی شکست کو چھپانے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی بدترین شکست پر بھارت کے واویلا اورحیلے بہانوں کی ہنڈیا کو اس ملین ڈالر سوال سے پھوڑ کر رکھ دیا کہ اگراس جنگ میں چین اور ترکیہ کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے پر انکے بارے میں بھارت یہ پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تھے تو اسی بنیاد پہ وہ امریکہ اور فرانس کو مورود الزام کیوں نہیں ٹھہراتا کہ ان کے ہتھیار اور آبدوزیں بھی تو ہمارے پاس ہیں؟ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ جن سے ہم اسلحہ لیتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لڑائی میں شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس جنگ میں باقاعدہ طور پر فرانس کے طیارے استعمال کئے تو ہم کیوں نہیں کہتے کہ بھارت کے ساتھ اس جنگ میں فرانس بھی تھا؟ انھوں نے کہا کہ بھارت میں جھوٹ کا سیلاب آیا ہوا تھا، جیسے بالی ووڈ فلم کی شوٹنگ ہے۔ بھارت کی طرف سے پروپیگنڈہ اور حیلے بہانے صرف اپنے عوام مطمئن کرنے کیلئے ہیں کیونکہ وہ اس جنگ میں عسکری، سیاسی، سفاتی اور ابلاغی غرض کی تمام محاذوں پر چاروں شانے چت ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستانی افواج نے جنگ میں اپنا لوہا منوایا ۔ بھارتی دعوے مٹی میں مل گئے، سندور اجڑ گیا، بھارت کو بری شکست ہوئی۔ سوائے شریر و مجرم اسرائیل کے اس کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں تھا۔ مودی یہاں، وہاں دیکھتے رہے، ان کو جڑواں بھائی نیتن یاہو کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے ایسا دوبارہ کچھ کیا تو ویسا ہی ہوگا، پھر کہیں گے فلاں مدد کیلئے آیا۔
ادھر پاکستان کے نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کہا ہے کہ پاکستان نے 9اور 10مئی کو بھارت کو ایساسبق سکھایا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کی جارحیت کے خلاف سرخرو ہوا، دنیا نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی پر اللہ کے حضور سر بسجود ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے جنگ شروع کی تو اس کے 6طیارے مار گرائے، چھتیس گھنٹے میں اسی ڈرون بھیجے تو پاکستان نے انہیں بھی مار گرایا، پاکستان کو بہت عزت و احترام اور کامیابی ملی۔ انہوں نے کہاکہ ایران پر مشکلات آئیں تو اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف اس کی سفارتی طور پر ہم نے مدد کی، ایران نے تسلیم کرلیا سچا دوست پاکستان ہے۔ایرانی پارلیمنٹ میں بھی” تشکر پاکستان”کے نعرے لگے، شہدا ء کے جنازوں میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔
جنگ کے فوراً بعد بھارت کی جانب سے روایتی واویلا شروع ہو گیا۔ بھارتی میڈیا اور حکومتی نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو چین اور ترکیہ کی مکمل مدد حاصل تھی اور اسی وجہ سے بھارت کو نقصان ہوا۔ خواجہ آصف کا سوال ملین دالر اہمیت کا حامل اور بھارت کے حیلے بہانوں اور پروپیگنڈے کے غبارے کو پھاڑنے والا پے کہ "اگر چین اور ترکیہ سے حاصل کردہ اسلحہ ہمیں موردِ الزام بناتا ہے، تو پھر بھارت کو امریکا، فرانس، روس، اسرائیل، اور اٹلی کو بھی اپنی جنگ میں شامل ماننا ہوگا کیونکہ بھارت انہی ممالک کے اسلحہ پر انحصار کرتا ہے۔ بھارت خود فرانس کے رافیل طیارے استعمال کر رہا تھا، تو کیا پاکستان یہ دعویٰ کرے کہ فرانس اس جنگ میں بھارت کا اتحادی تھا؟ یہ سوال بھارت کے پروپیگنڈے کو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بھارت کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیداروں نے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ جنگ کے بعد بھارتی ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بھارت کو تین محاذوں پر لڑنا پڑا ۔ پاکستان، چین اور ترکیہ کی طرف سے، اور اسی "مشترکہ دشمن” کا سامنا بھارت کی شکست کی بڑی وجہ بنا۔یہ کہ ان کے متعدد لڑاکا طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی ٹیکنیکل جام کا شکار ہو گئے جبکہ پاک فضائیہ کے "اسمارٹ ٹارگیٹڈ اسٹرائیکس” نے بھارتی فضائیہ کے ایئر بیسز کو مفلوج کردیا۔ یہ کہ ہمارے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ ہماری عسکری تیاریوں میں خلاء تھا، ہتھیار بروقت اور بر محل میسر نہیں تھے اور ہم بین الاقوامی دباؤ کو برداشت نہ کر سکے۔ تاہم ان کا یہ بیان حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش اور ایک بھونڈا مفروضہ یا تاویل تھی کیونکہ میدانِ جنگ میں بھارت کا اصل سامنا صرف پاکستان سے تھا اور بھارت اس سے پہلے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو نہیں گنواتا تھا بلکہ اپنی فوجی استعداد کے بارے میں بڑے مغرور انداز میں دعوے کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکیاں دیتا تھا۔
اسی طرح بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (CDS) جنرل انیل چوہان نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے اچانک اور مربوط حملوں نے بھارتی دفاع کو مفلوج کردیا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تحریری طور پر کہا کہ جنگ کی نوعیت روایتی نہیں رہی بلکہ پاکستان نے تکنیکی برتری، الیکٹرانک وارفیئر اور "ملٹی تھریٹر اسٹرائیک” کا بھرپور استعمال کیا۔
اس سے پہلے28 مئی کو سنگاپور میں بلوم برگ اور روئٹرز کو دئے گئے انٹرویوز میں انھوں نے پاکستان کے ہاتھوں جنگی طیارے مار گرائے جانے کے اعتراف کے دوران اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ کہنا کہ اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔
بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل اور ڈائریکٹر ائیر آپریشنز اے کے بھارتی نے دیگر فورسز کے سربراہان کے ساتھ 11 مئی کی پریس کانفرنس میں بھارتی جہازوں کے نقصانات اور شکست کا دبے لفظوں میں اعتراف کیا تھا کہ جنگ میں نقصانات ہوتے رہتے ہیں۔
انڈونیشیا میں متعین بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے اسی پاک بھارت جنگ کے جائزے سے متعلق ایک کانفرنس میں بھارتی جنگی طیاروں کے مار گرائے جانے کا اعتراف کیا تاہم حکومتی پالیسی کے تحت ان کی تعداد بناتے سے گریز کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز تاویل پیش کی کہ مودی سرکار نے فضائیہ کو پاک فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے منع کیا تھا اسی وجہ سے اس کو نقصان اٹھانا پڑا۔ کوئی پوچھے تو کہ مفروضوں پر حملے اور جنگ مسلط کرنے والے آپ کیسے دشمن کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، پھر کیا اپنے ایک سو سے زیادہ طیاروں کو ٹافیاں پھینکنے کے لئے اس جنگ میں جھونک دیاتھا؟
اسکے علاوہ سفارتی محاذ پر شکست کے حوالہ سے بڑا اہم اور اعترافی بیان بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا ہے ۔ امریکی میگزین کو انٹریو میں اعتراف کیا کہ امریکا نے بھارت کو تنبیہ کی اور یہ اطلاع دیکر جنگ بندی پر مجبور کیا کہ پاکستان بہت بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 10 مئی کی رات کو ویسے بھی بہت بڑا حملہ کرچکا تھا۔

جنگ کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومتی ترجمانوں نے حسبِ معمول شکست کو چھپانے کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔ سب سے زیادہ دہرایا جانے والا جھوٹ یہ تھا کہ "پاکستان کے ساتھ چین اور ترکیہ بھی میدان میں تھے”، حالانکہ بین الاقوامی مبصرین اور انٹیلیجنس رپورٹس نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی۔اس بیانیے کے ذریعے بھارت نے اپنی ناکامی کا ملبہ "بیرونی مداخلت” پر ڈالنے کی کوشش کی تاکہ ملکی عوام کے غصے کو منتشر کیا جا سکے اور بھارتی فوج کی اہلیت پر اٹھنے والے سوالات کو خاموش کیا جا سکے۔
جنگ سے قبل نریندر مودی نے اپنے روایتی جارحانہ لہجے میں قوم کو "فیصلہ کن جنگ” کی نوید دی، اور بار بار دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اس بار پاکستان کو سبق سکھائے گا۔ مگر جب جنگ کا میدان گرم ہوا تو نہ صرف مودی کے تمام دعوے جھوٹ ثابت ہوئے بلکہ ان کا سیاسی قد بھی گھٹ گیا۔مودی کا یہ بیان کہ:”ہم نے پاکستان کو منٹوں میں سبق سکھا دیا”خود بھارتی سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مذاق کا نشانہ بن گیا۔ درحقیقت وہ خود اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ الجھے ہوئے تھے۔بھڑکوں کے دوران بھی ان کے تاثرات شکست اور پریشانی کی کہانی سناتے تھے۔ ایک طرف وہ بالی وڈی بھڑکے مارتے، جھوٹی فتح کے دوعوے کرتے رہے اور دوسری طرف بھارتی عوام حیران و پریشان تھے۔اور پھر ا نکے اعلی ترین فوجی عہدیداروں کے پردے میں رکھ رکھ کر بھی شکست اور نقصانات کے اعترافی بیانات نے مودی کی ان تمام بھڑکوں کی ہوا نکال دی جو انھوں نے گیارہ مئی کے بعد اپنے ویڈیو بیانات، عوامی خطابات اور ٹوئیٹس میں ماریں۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کا داخلی فسطائی ڈھانچہ اس کے تمام اداروں میں سرایت کر چکا ہے۔ عدلیہ، فوج، میڈیا اور انتظامیہ سب ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت سچائی کا سامنا کرنے سے قاصر ہے اور ہر شکست کو سازش قرار دے کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔بھارت کی جانب سے اعلیٰ ترین عسکری اور سفارتی سطح پر شکست کا اعتراف، خود بھارت کے اندر گہری مایوسی اور بے یقینی کا باعث بن رہا ہے۔ مودی سرکار اپنی روایتی "جعلی فخر” اور "فیک نیشنلزم” کے بل پر زیادہ دیر اس شکست پر پردہ نہیں ڈال سکے گی۔
پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی برتری ثابت کی۔بھارتی جھوٹ، بڑھکیں، بہانے اور پروپیگنڈا شکست کے بدنما داغ کو مٹانے میں ناکام رہے ہیں، اور اب دنیا جان چکی ہے کہ جنگ ہو یا امن، برتری پاکستان کے پاس ہے۔حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ پاکستان ایک پرعزم، خودمختار اور مضبوط ریاست ہے جو دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنی افواج، اپنے عوام، اور اپنے جذبے کے سہارے فتح حاصل کرنے والا ملک ہے۔ بھارت کو اب اپنی شکست کا سامنا جرأت سے کرنا ہوگا اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ناکامیوں کو نہیں چھپانا چاہئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button