مضامین

وشوء گرو  امریکی چرنوں میں، حساس تنصیبات تک رسائی،سفارتی شاہکار یا اسٹریٹجک سرنڈر؟

تحریر: ارشد میر

جغرافیہ کبھی جھوٹ نہیں بولتی، تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی اور جنگیں کبھی محض بیانات سے نہیں جیتی جاتیں۔ مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین عسکری شکست کے بعد بھارتی حکومت جس داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے اسے اب نعروں، تصویروں اور سفارتی “Photo-Ops” سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ “معرکۂ حق” میں ملنے والی ذلت آمیز ناکامی نے نہ صرف بھارتی عسکری برتری کے دعووں کا بھرم توڑا بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کے کھوکھلے پن کو بھی عیاں کر دیا۔جو ریاست خود کو خطے کی ابھرتی ہوئی سپر پاور قرار دیتی تھی وہ اچانک وضاحتوں، تردیدوں اور عالمی توجہ کی بھکاری بن گئی۔

ایسے میں مودی سرکار نے ایک نیا اسکرپٹ تیار کیا۔ امریکہ کی خوشنودی حاصل کی جائے، چاہے اس کے لیے حساس عسکری تنصیبات تک رسائی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خودمختاری محض تقریروں کا لفظ ہے یا قومی سلامتی کی بنیاد؟ ماہرین اسے ملکی خودداری پر سمجھوتہ قرار دے رہے ہیں مگر گودی میڈیا اسے “تاریخی کامیابی” کے طور پر بیچنے میں مصروف ہے۔ گویا شکست کو سفارتی کامیابی میں بدلنے کی فیکٹری پوری رفتار سے چل رہی ہے۔

حقیقت مگر اتنی سادہ نہیں۔ روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری، امریکی دباؤ اور صدرڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پچاس فیصد تک ٹیرف کی تلوار نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں سرد مہری پیدا کی۔ بھارت نے اس توازن کو “اسٹریٹجک آٹونومی” کا نام دیا مگر جب مئی کی جنگ نے عسکری کمزوری کو بے نقاب کیا تو یہی خودمختاری اچانک “اسٹریٹجک ضرورت” میں بدل گئی۔ اب حساس تنصیبات کے دروازے کھول کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ “ جناب!ہم اب بھی اہم ہیں، ہمیں نظرانداز نہ کیجئو”۔

یہ سفارت کاری کم اور اضطراب زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ شکست کے بعد بھارتی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو داخلی سطح پر بھی سوالات کا سامنا ہے۔ جب میدان میں دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں تو میڈیا بیانیہ سہارا بنتا ہے۔ چنانچہ امریکی وفد کا دورہ ایک علامتی مرہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر مرہم زخم کی گہرائی نہیں مٹا سکتا۔ اگر جنگی حکمت عملی ناکام رہی، اگر معیشت دباؤ کا شکار ہے، اگر عالمی فورمز پر پذیرائی کم ہو رہی ہے اور پیہم سفارتی سبکی کا سامنا ہے تو چند تصویریں ان حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

بھارتی معیشت بھی اس دوران غیر یقینی کی کیفیت میں ہے۔ سرمایہ کار محتاط ہیں، کرنسی دباؤ میں ہےاور دفاعی اخراجات میں اضافے نے مالی توازن کو متاثر کیا ہے۔ مئی کی شکست نے صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور معاشی دھچکا بھی دیا۔ ایسے میں امریکی “آشیرباد” کو ایک نفسیاتی سہارا بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جیسے عالمی طاقت کی قربت سے داخلی کمزوریاں چھپ جائیں گی۔ مگر عالمی سیاست خیرات پر نہیں چلتی، مفادات پر چلتی ہے اور مفادات ہمیشہ یکطرفہ دوستی کو برداشت نہیں کرتے۔

گودی میڈیا کی کارکردگی اس سارے منظرنامے کا دلچسپ پہلو ہے۔ سوال پوچھنے کے بجائے جشن منایا جا رہا ہے۔ تنقید کے بجائے تالی بجائی جا رہی ہے۔ جو اقدام کل تک ناقابلِ تصور تھا، آج اسے قومی فخر کا استعارہ بنایا جا رہا ہے۔ مگر کیا واقعی حساس عسکری تنصیبات تک غیر ملکی رسائی فخر کی بات ہے؟ یا یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ عالمی حمایت کے بغیر داخلی اعتماد متزلزل ہے؟

سفارتی ماہرین کہتے ہیں کہ مضبوط ریاستیں اپنی طاقت دکھانے کے لیے دروازے نہیں کھولتیںبلکہ پالیسیوں سے وقار قائم کرتی ہیں۔ اگر خارجہ پالیسی “آپٹکس” پر کھڑی ہوتو وہ پہلے جھونکے میں لرز جاتی ہے۔ مودی سرکار اس وقت اسی لرزش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف روس سے تعلقات بچانے کی کوشش، دوسری طرف امریکہ کو راضی کرنے کی بے تابی اور تیسری طرف خطے میں پاکستان کے سامنے عسکری ناکامی۔یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں اعتماد کم اور تشویش زیادہ نظر آتی ہے۔

جنگ مئی کی شکست نے ایک اور حقیقت بھی واضح کی۔ عسکری طاقت کا شور اگر حکمت عملی سے خالی ہو تو انجام شرمندگی ہوتا ہے۔ جب دعوے زمین بوس ہوں تو بیانیہ آسمان پر نہیں ٹک سکتا۔ چنانچہ اب بیانیے کی پذیرائی کے لیے امریکی دورے کو ڈھال بنایا جا رہا ہے۔ مگر عالمی برادری بیانات سے زیادہ رویے دیکھتی ہے۔ اگر معیشت کمزور ہو، اگر داخلی سیاسی تقسیم گہری ہواور اگر خارجہ پالیسی ردعمل پر مبنی ہو تو محض سفارتی سرگرمی سے ساکھ بحال نہیں ہوتی۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مفاداتی رہی ہے۔ وہ کسی بھی ملک کے داخلی بیانیے کو سہارا دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹجک اہداف کے لیے شراکت داری کرتا ہے۔ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ چند حساس مقامات تک رسائی دے کر وہ واشنگٹن کی سرد مہری ختم کر دے گا تو یہ اندازہ شاید حد سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہے۔ عالمی طاقتیں مستقل دوست نہیں رکھتیں، مستقل مفادات رکھتی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مودی سرکار اس وقت دو محاذوں پر لڑ رہی ہے،ایک بیرونی، جہاں اسے سفارتی تنہائی کا سامنا ہے اور دوسرا داخلی جہاں اسے شکست کے اثرات سے پیدا ہونے والی بے چینی کو سنبھالنا ہے۔ حساس تنصیبات تک رسائی دینا اسی دوہرے دباؤ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو فیصلے دباؤ میں کیے جائیں وہ اکثر دیرپا نقصان چھوڑ جاتے ہیں۔

سوال پھر لے دے کے یہی رہ جاتا ہےکہ کیا یہ واقعی سفارتی مہارت ہے یا اسٹریٹجک گھبراہٹ؟ کیا یہ خودمختاری کا اظہار ہے یا اس کی قیمت پر وقتی سہارا؟ مئی کی جنگ نے بھارتی دعووں کی بنیاد ہلا دی۔ اب اگر اس ہلتی ہوئی بنیاد کو تصویروں، دوروں اور بیانات سے سہارا دینے کی کوشش کی جائے گی تو عمارت مستحکم نہیں ہوگی۔ مضبوطی کے لیے پالیسی میں گہرائی، معیشت میں استحکام اور عسکری حکمت عملی میں حقیقت پسندی درکار ہوتی ہے۔

یاد کیجئے یہی بی جے پی کانگریس کے دور اقتدار میں امریکہ کی طرف سے بھارت کو چین کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال کئے جانے اور اس ضمن میں کچھ جدید لڑاکا طیارے دینے کی پیشکس پر یہ کہہ کر سراپا احتجاج تھی کی جو ملک امریکی مفادات کا آلہ کاربن جاتا ہے،وہ تباہی سے دوچار ہوجاتا ہے۔ مگر پھر اسی بے جے پی نے اپنے دور حکومت میں امریکی گود میں بیٹھ  کر  آلہ کار کا کردار ادا کیا۔یہ تو بھلا ہو پاکستانی فوج کا کہ جس نے مئی  کی جنگ میں بھارت کو چاروں شانے چت کرکے اسٹریٹیجک نقشہ ہی بدل دیا کہ نہ صرف اسے روائتی جنگی صلاحیت کی برتری  کے زعم سے محروم کردیا بلکہ امریکہ کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ کس پر اتنا تکیہ کئے بیٹھا ہے؟  اس تاریخساز  شکست اور اسکے نتیجہ میں ہوئی  سفارتی تنہائی نے " وشوء گرو” کو اس قدر گرادیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے بار بار کچوکے لگانے، طیاروں کی تباہی اور بھارتی درخواست پر جنگ بندی کا ذکر کرنے، بھارت کے  تجارتی دوغلے پن پر بطور سزاء  50 فیصد ٹیرف عائد کئے جانے اور دیگر بے عزتیوں کے باوجود  "وشوء گرو” کا  مکھیا نہ صرف چپ رہا بلکہ ٹوئیٹس اور دیگر حرکات سے ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دم ہلاتا رہا۔

اس پورے منظرنامے کا یہی اہم پہلو ہے کہ جس ریاست نے خود کو خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی قرار دیاوہ دھتکار کے باوجود امریکی چرنوں میں پڑا رہا اور  ایک اشارے پر اس کے لیے اپنے دروازے کھول دئے اور حساس اثاثوں تک رسائی بھی دے دی۔یہ "کھلاڑی” جس شکست کو داخلی سطح پر تسلیم نہیں کر رہا، وہی شکست اسکی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں جھلک رہی ہے۔ تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ مئی کی جنگ صرف میدان میں نہیں ہاری گئی تھی بلکہ اس کے اثرات سفارت کاری کی راہداریوں تک پھیل گئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے سبق سیکھا جائے گا، یا اگلا باب بھی “آپٹکس” کے سہارے لکھا جائے گا؟

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button