اقوامِ متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش علیحدہ خطہ قرار، بھارت میں کھلبلی
نیویارک: اقوامِ متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش کو ایک علیحدہ خطہ قراردیا گیا ہے جس سے بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔فرانس، برطانیہ اور بھارت سمیت 164 ممالک نے افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھائے جانے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف امریکہ نے اس نقشے کی مخالفت کی۔عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ اس نقشے میں بھارت کے زیر انتظام کئی علاقوں کو مختلف انداز میں دکھائے جانے کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑاہوگیا ہے۔نئے نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو بھارت اور چین کے باہمی سرحدی دعوو¿ں کے درمیان الگ خطوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔نئی دہلی اروناچل پردیش کو بھارت کا حصہ جبکہ اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے۔یہ نقشہ یکم جولائی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد سے متعلق مباحثے کے دوران پہلی مرتبہ جاری کیا گیا تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت نے نقشے کی تصحیح کے عنوان سے پیش کی گئی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نقشے میں اروناچل پردیش کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد ختم کر دی گئی ہے جبکہ اس خطے کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کی سرحدیں آسام اور چین سے ملتی ہیں۔اسی طرح نقشے میں اکسائی چن کو بھی ایک علیحدہ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کے مغربی جانب بھارت جبکہ مشرقی جانب چین کی سرحد ظاہر کی گئی ہے۔اقوامِ متحدہ نے نقشے میں کی گئی ان تبدیلیوں کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔








