بھارت

بھارت :آسام میں بی جے پی حکومت جنگلات کے تحفظ کی آڑ میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے

نئی دہلی:آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF)نے کہا ہے کہ آسام میں ہیمنتا بسوا سرما کی زیر قیادت بی جے پی حکومت جنگلات کے تحفظ کی آڑ میں جاری بے دخلی مہم کے دوران جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اے آئی یو ڈی ایف کے اراکین اسمبلی رفیق الاسلام، امین الاسلام اور اشرف حسین نے ایک پریس کانفرنس میں گول پاڑہ، دھوبری، کچوٹولی اور ملحقہ خطوں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جاری بے دخلی مہم پر حکومت پر شدید تنقید کی اور اس بے دخلی کو غیر انسانی، غیر آئینی اور سیاسی بنیادوں پر قرار دیا۔رفیق الاسلام نے جو پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں، کہا کہ حکام نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور عدلیہ کی چھٹیوں کے دوران بے دخلی کی مہم شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات عدالت میں اراضی کا درست ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا جب کہ مکینوں کی جانب سے بے دخلی کو چیلنج کیا گیاہے۔ رفیق الاسلام نے کہاکہ جن علاقوں سے لوگوں کوبے دخل کیاگیا ان میں سے بیشترعلاقے جنگلات کی زمین کے طور پر درج ہی نہیں ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے من مانی طور پر ان کو جنگلات قراردیاگیا۔اے آئی یو ڈی ایف نے اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی طرف سے کی گئی یقین دہانی کے مطابق ہر بے گھر خاندان کو کم از کم 7 بیگھہ اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر اڈانی اور امبانی کو زمین تحفے میں دی جا سکتی ہے تو حکومت ان بے گھر خاندانوں کی بازآبادکاری کیوں نہیں کر سکتی؟انہوں نے کہا کہ جاری بے دخلیاں کارپوریٹ مفادات کے لیے زمین کو خالی کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔ لوگوں کو پوچھنے کی ضرورت ہے،کیا یہ مہمات واقعی جنگلات کی حفاظت کے لئے ہیں یا اڈانی کے لیے زمین خالی کرنے کے لئے؟انہوں نے کہاکہ حکومت آسام کے لوگوں کو یرغمال بنا رہی ہے اور 2026 کے انتخابات میں فائدے کے لیے خوف، طاقت یا جذباتی حربے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اے آئی یو ڈی ایف کے رہنمائوں نے حکومت کی فسطائیت اورانتشاری اقدامات کے خلاف مزاحمت کرنے کاعزم ظاہرکرتے ہوئے عدالتی مداخلت کا مطالبہ کیا اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ بے دخلی کا فوری نوٹس لیں۔واضح رہے آسام میں بی جے پی حکومت نے ہزاروں مسلمانوں کے گھروں کو مسمارکرکے انہیں بے گھر کردیاہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button