نیو یارک:اسحاق ڈار کی انتونیو گوتریس سے ملاقات
تنازعہ کشمیر کے حل سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال
نیویارک:
نائب وزیر اعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیا اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ اٹھایا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تقریبات اور امریکی حکام کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے8روزہ دورے پر امریکہ میں ہیں۔انتونیو گوتریس سے ملاقات میں انہوں نے پاکستان کے لیے قومی اور علاقائی اہمیت کے متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں تنازعہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان کے اندر ‘غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی’ شامل ہیں۔اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیا اور بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے انتونیو گوتریس کی "قیادت اور مخلصانہ کوششوں”کی تعریف کی۔انہوں نے فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ملاقات میں اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔انہوں نے اسلاموفوبیا کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی تقرری کا خیر مقدم کیا اور مذہبی عدم رواداری کے خلاف عالمی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا۔انتونیو گوتریس نے اس موقع پر پاکستان کے فعال کردار کا خیرمقدم کیا۔
واضح رہے کہ بھارت نے اپریل میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پانی کی تقسیم کا دہائیوں پرانا سندھ طاس معاہدہ معطل کرتے ہوئے پاکستان اور آزاد کشمیر کی شہری آبادی پر وحشیانہ جارحیت کی تھی جس کاپاکستان نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارت کے 6طیارے مار گرائے تھے۔





