مقبوضہ کشمیر :لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اسکولوں میں سنسکرت کی تعلیم لازمی قراردیدی
قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ
سرینگر:
مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے مقررکردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے پورے مقبوضہ جموں و کشمیرکے اسکولوں میں سنسکرت کی تعلیم کو لازمی قرار دیا ہے ۔ قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر کشمیری عوام کی طرف سے شدید غم وغصے کا اظہار کیاجارہاہے ۔ناقدین نے اس اقدام کو بھارت کی نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020کے وسیع تر نظریاتی ایجنڈے کا حصہ قراردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ کا یہ اقدام بھارت کے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں نائب تحصیلدار کے عہدے کیلئے اہلیت کے معیار کے طور پر اردو زبان کی شرط کے خاتمے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ لیفٹیننٹ گورنر مقبوضہ علاقے میں گورننس اور تعلیمی پالیسی میں مداخلت کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ ایک بیان میں نیشنل کانفرنس نے قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ نیشنل کانفرنس نے زور دیا کہ اس طرح کے فیصلے بیرونی نظریاتی فریم ورک کے ذریعے مسلط کرنے کے بجائیمقامی قانون سازی کے تحت کئے جانے چاہئیں اور ان سے علاقے کے لسانی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی ہونی چاہیے ۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے خبردار کیاکہ اس طرح کے اقدامات سے احساس محرومی کے شکار کشمیریوں کی تنہائی میں مزید اضافہ ہو ۔







