جھوٹ کا نقاب: پہلگام واقعہ، آپریشن سندور کی ناکامی اور داچھی گام کا فرضی انکاؤنٹر
تحریر ۔حبیب اللہ شیخ

تحقیقی تجزیہ: بھارتی حکومت کی کشمیر میں پراپیگنڈا حکمتِ عملی
تعارف
بھارتی مقبوضہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا جب بھارتی فوج نے داچھی گام کے علاقے میں "آپریشن مہادیو” کے تحت تین افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارتی پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں پہلگام حملے اور آپریشن سندور کی ناکامی پر حکومت پر سخت تنقید ہو رہی تھی۔ اس تحریر میں ان واقعات کے پسِ منظر، بھارتی حکومت کے ردعمل، اپوزیشن کے مؤقف، اور ممکنہ جھوٹے انکاؤنٹرز کی تفصیلات کا تجزیہ کیا جائے گا۔
پہلگام حملہ اور آپریشن سندور کی ناکامی
پہلگام حملے کو بھارتی میڈیا نے ایک بڑی سیکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب کشمیر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی، جس نے بھارت کی دعویدار انٹیلیجنس اور فوجی تیاری پر کئی سوالات اٹھائے۔ اس کے بعد لانچ کیا گیا "آپریشن سندور” عسکری لحاظ سے ناکامی کا شکار ہوا، اور کوئی واضح نتائج سامنے نہ آ سکے۔
مودی حکومت کا دباؤ اور پارلیمانی بے بسی
لوک سبھا میں جب اپوزیشن نے مودی حکومت سے سخت سوالات کیے، تو اسپیکر نے وقفے کا اعلان کیا، جس کے دوران کشمیر سے فرضی خبر بریک کی گئی کہ پہلگام حملے کے ذمہ دار مارے گئے ہیں۔ اس "بریکنگ نیوز” نے بظاہر سیشن کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔
آپریشن مہادیو: فرضی انکاؤنٹر یا حقیقت؟
بھارتی فوج کی چنار کور کی جانب سے سوشل میڈیا پر اعلان کیا گیا کہ داچھی گام میں "آپریشن مہادیو” جاری ہے۔ جلد ہی یہ دعویٰ سامنے آیا کہ پہلگام حملے کے مرکزی کردار کو مار دیا گیا ہے۔ مگر اس دعوے کو کئی سطحوں پر چیلنج کیا جا رہا ہے:
پریس بریفنگ منسوخ: پہلے باضابطہ پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا، مگر اچانک کہا گیا کہ پولیس تفصیلات دے گی۔
ایل جی اور وزیراعلیٰ کا تضاد: کشمیر کے ایل جی نے جھڑپ کی تصدیق کی، مگر عمر عبداللہ وزیراعلیٰ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
میڈیا بریکنگ پر انحصار: باضابطہ تصدیق کی بجائے میڈیا پر لیکس اور بریکنگ نیوز سے کہانی پھیلائی گئی۔
اپوزیشن کا ردعمل: جھوٹ پر پردہ ڈالنے کی کوشش
انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما پی۔چدمبرم نے اس انکاؤنٹر کو "بچاؤ کی چال” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت لوک سبھا میں سوالات سے بچنے کے لیے ایسے من گھڑت انکاؤنٹرز کا سہارا لے رہی ہے۔ اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر حملہ آور واقعی مارا گیا تو اس کی شناخت، شواہد، اور ماضی کا ریکارڈ کہاں ہے؟
فرضی انکاؤنٹرز: ایک تاریخی پس منظر
بھارت پر اس سے قبل بھی مقبوضہ کشمیر میں فرضی انکاؤنٹرز کے الزامات لگ چکے ہیں۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی فوج کی جانب سے جعلی مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، اور جعلی خبروں کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بارہا نشاندہی کی ہے۔
سیاسی پروپیگنڈا اور میڈیا کی کردار کشی
بھارتی میڈیا، خاص کر حکومتی لائن پر چلنے والے چینلز، نے اس انکاؤنٹر کو بغیر کسی تحقیق کے “قومی کامیابی” بنا کر پیش کیا۔ لیکن جس طرح سے لوک سبھا سیشن کے دوران اچانک جھڑپ کی خبر آئی، وہ سنجیدہ تجزیہ کاروں کے لیے مشکوک ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا، فوج، اور حکومت نے مل کر ایک مخصوص بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی تاکہ عوامی توجہ اصل ناکامیوں سے ہٹا کر فرضی کامیابیوں پر منتقل کی جا سکے۔
نتیجہ: ایک بیانیے کا جھوٹا قلعہ
داچھی گام کا انکاؤنٹر، جسے “آپریشن مہادیو” کا حصہ کہا گیا، ایک مشتبہ اور سیاسی طور پر فائدہ مند واقعہ نظر آتا ہے۔ مودی حکومت کو لوک سبھا میں شرمندگی سے بچانے کے لیے عین وقت پر یہ "کامیابی” دکھانا دراصل ایک منظم بیانیے کا حصہ ہے جس میں جھوٹ، پراپیگنڈا اور فرضی شجاعت کی کہانیاں شامل ہیں۔








