آپریشن سرچ لائٹ: حقائق یا بیانیہ؟ بنگلہ دیشی وزیراعظم کے بیان پر سنجیدہ سوالات
ابو مومن عبداللہ
بنگلہ دیش کے وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ وہ آپریشن سرچ لائٹ جیسے حساس معاملے پر بیان دینے سے قبل مستند مورخین سے رہنمائی حاصل کرتے۔ اگر وہ اپنی والدہ خالدہ ضیاء کے "یومِ نسل کشی” سے متعلق پیغامات کا بغور مطالعہ کرتے تو شاید ان کا لب و لہجہ زیادہ متوازن اور قومی ہم آہنگی کے لیے سازگار ہوتا۔
وزیراعظم طارق رحمان کی جانب سے 25 مارچ کے واقعات کو "پہلے سے منصوبہ بند قتلِ عام” قرار دینا نہ صرف تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ اس سانحے میں دونوں جانب ہونے والے انسانی نقصانات کو بھی پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کی کارروائی ایک اندرونی بحران کے تناظر میں ایک سیکیورٹی ردعمل تھی، نہ کہ کسی منظم نسل کشی کی مہم۔ اس وقت بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان تھا اور ریاست کے لیے داخلی بدامنی کو کنٹرول کرنا اس کا خودمختار حق تھا۔
یہ سانحہ پاکستان کے دردناک ٹوٹنے پر منتج ہوا، اور اس عمل میں ہونے والا نقصان یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں جانب مشترکہ تھا۔ کئی پاکستانی خاندانوں نے بھی مکتی باہنی کے ہاتھوں شدید مظالم برداشت کیے، جو اس تلخ تاریخ کا حصہ ہیں۔
بنگلہ دیشی مصنف ایم رفیق الاسلام اپنی کتاب “A Tale of Millions: Bangladesh Liberation War, 1971” میں لکھتے ہیں کہ قتل و زیادتی کے الزامات اس جنگ کا سب سے متنازع پہلو ہیں، جبکہ متعدد آزاد مبصرین 30 لاکھ ہلاکتوں اور 2 لاکھ زیادتیوں کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اسی طرح بھارتی نژاد محقق سرمیلا بوس اپنی کتاب “Dead Reckoning: Memories of the 1971 Bangladesh War” میں مروجہ بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے متبادل اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، جو آج بھی سنجیدہ بحث کا موضوع ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق بھی "قبضہ” کی تعریف دی ہیگ ریگولیشنز 1907 میں واضح ہے کہ کسی علاقے کو اسی وقت مقبوضہ کہا جاتا ہے جب وہ دشمن فوج کے زیرِ اختیار ہو۔ اس تناظر میں پاک فوج کو "قبضہ گیر” قرار دینا درست نہیں کیونکہ وہ اسی ریاست کی آئینی فوج تھی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ تقریباً 34 ہزار پاکستانی فوجی، لاکھوں بھارتی فوجیوں اور مکتی باہنی کے جنگجوؤں کے مقابلے میں برسرِ پیکار تھے۔ اس کے باوجود، یک طرفہ پروپیگنڈے کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
✔ نقصان دونوں طرف ہوا
✔ تاریخ کو یک رخی انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا
✔ سچ ہمیشہ سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہوتا ہے
سچ کو جانیے — بیانیے سے آگے بڑھیے۔





