تجزیہ کاروں، مقامی لوگوں نے داچھی گام جعلی مقابلے سے متعلق بھارتی وزیرداخلہ کے دعوے کو مسترد کر دیا

سرینگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میںمقامی لوگوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس دعوے کویکسر مسترد کر دیا ہے کہ سرینگر کے علاقے داچھی گام میں ایک فوجی کارروائی کے دوران پہلگام واقعے میں ملوث تین نوجوانوں کو قتل کیاگیاہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ فوجی نے ایک جعلی مقابلے میں ان بے گناہ نوجوانوںکو شہید کیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں نے امیت شاہ کی جانب سے شہید نوجوانوں کو پہلگام حملے میں ملوث عسکریت پسند قراردینے کی کوشش کو بے نقاب کردیاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے نتیجے میںشرمناک شکست کے بعدبھارت نے کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے یہ جعلی مقابلہ رچایاہے ۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی زیرقیادت مودی حکومت آپریشن سندور کی ناکامی پر اپوزیشن خاص طور پر کانگریس کے رہنمائوں کی بڑھتی ہوئی تنقید سے بچنے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرر ہی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس واقعے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران رونماہوا ہے جس میں پہلگام واقعے اور آپریشن سندور پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔





