World

سلامتی کونسل تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پور ی کرے، عاصم افتخار احمد

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے تنازعہ جموںوکشمیر کواقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے اپنی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے بامعنی اقدامات کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عاصم افتخار احمد نے ا قوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ میں ”سیاسی حل کے حصول کے لیے امن آپریشنز کا استعمال – ترجیحات اور چیلنجز“کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کی کوششوں کی جڑیں سیاسی عزم اور تنازعات کو مو¿ثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی حل کی ضرورت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ،جموں و کشمیر سے زیادہ اس کی کوئی مثال نہیں ۔ سلامتی کونسل کو اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے اور کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اور منصفانہ طریقے سے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ (یو این ایم او جی آئی پی) کی اہمیت بیان کی جو جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کی نگرانی کرتا ہے ۔ انہوں نے کہ فوجی مبصر گروپ کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتا کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جسکا حل ابھی باقی ہے۔
انہوںنے اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کا اعادہ کیا اور جموں و کشمیر کے تنازع کے سیاسی حل کے حصول پر نئی بین الاقوامی توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے عالمی امن کے قیام میں پاکستان کی نمایاں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے چار براعظموں میں اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں 2لاکھ 35ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 182 پاکستانی فوجیوں نے عالمی امن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا بانی رکن اور سب سے زیادہ فوجی تعاون کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل میں اقوام متحدہ کے کردار پر اپنا اعتماد بحال کرے۔ انہوں نے افریقی یونین، یورپی یونین اور آسیان جیسی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button