پاک فوج کا جارحیت کی صورت میں مشرقی بھارت میں شدیدحملوں کا انتباہ
اسلام آباد:
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ” انٹر سروسز پبلک ریلیشنز “(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی بھارتی جارحیت کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا جس کا نشانہ بھارت کے مشرقی کی اہم فوجی، اقتصادی اور تزویراتی تنصیبات ہونگی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ” دی اکانومسٹ “کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”اس بار ہم بھارت کے مشرق سے آغاز کریں گے۔“ انکا یہ بیان پاکستان کی ڈیٹرنس پوزیشن میں ایک قابل ذکر تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میزائل صلاحیتیںخاص طور پر شاہین-III اور ابابیل سسٹم— ایک مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس حکمت عملی میں پختہ ہو چکی ہیں، جس سے 2,500 کلومیٹر رینج میں اہم بھارتی انفراسٹرکچر کو درست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں کلی کنڈا، پانا گڑھ، چبوا، اور تیز پور جیسے اہم ایئر بیس ، وشاکھاپٹنم میں بحری تنصیبات اور کولکتہ، جمشید پور اور بھونیشور میں صنعتی مرکزشامل ہیں۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارت کے انتہائی اہم اسٹریٹجک اثاثے جیسے سری ہری کوٹا میں ISRO لانچ سائٹ، بنگلورو میں DRDO کی تنصیبات اور اڈیسہ میں چاندی پور میزائل ٹیسٹنگ رینج بھی پاکستانی میزائلوں کی مار کے خطرے سے دوچار ہیں۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ کا یہ بیان بھارت کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ اسکی کوئی بھی مہم جوئی اب روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہے گی۔ کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب انتہائی سخت ہوگا جس سے بھارت کو اقتصادی اور تزویراتی حوالے سے سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔KMS-12/M







