پاکستان

بھارت اپنے مذموم سیاسی پروپیگنڈے کے لیے انسداد دہشتگردی کو ہتھیارکے طورپر استعمال کر رہاہے

اسلام آباد: بھارت انسداد دہشت گردی کے حساس اور سنجیدہ موضوع کو سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طورپرمسلسل استعمال کررہا ہے ۔ اس بار اس مہم کا نشانہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بنایا گیا ہے، جنہیں ایک جھوٹے اور بے بنیاد "ڈیجیٹل دہشت گردی” کے بیانیے میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا اور گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈنے ایک بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ بنگلورو سے گرفتار ایک خاتون نے مبینہ طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی ہے اور القاعدہ سے متعلق انتہا پسندانہ موادآن لائن شیئر کیاہے۔ ان بے بنیاد الزامات کا کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیاگیاہے بلکہ یہ واضح طور پر ایک سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان کی عسکری قیادت کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کی یہ کوئی پہلی مذموم کوشش نہیں ہے ۔ بھارت کے اس رویے سے انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی فریم ورک کے غلط استعمال کی عکاسی ہوتی ہے، جو نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی سکیورٹی کے لیے بھی خطرناک ہے۔بھارت اپنے داخلی مسائل جیسے ہندوتوا نظریے پر مبنی ہندو انتہا پسندی، بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات اور اقلیتوں کے خلاف جاری تشدد اور نفرت آمیز آن لائن پروپیگنڈے کی روک تھام پر توجہ مرکوزکرنے کی بجائے عوام کی حمایت کے حصول اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے من گھڑت گرفتاریوں، میڈیا لیکس اور "غزوہ ہند”جیسے بیانیے کو استعمال کو رہاہے۔فیلڈ مارش سید عاصم منیرنے جو ایک پیشہ ور اور غیر جانبدار فوجی ہیں ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے ۔ ان کا نام جھوٹے بیانیوں میں شامل کرنا نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے بلکہ اس مذموم مہم کا مقصد انسداد دہشتگردی کے عالمی طریقہ کار کو بھی مشکوک بنانا ہے۔بھارت کا یہ مذموم عمل صرف دوہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان تنازعہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی بھی ایک خطرناک چال ہے۔بھارتی حکام کی جانب سے غیر ملکی "ہینڈلرز” سے متعلق بے بنیاد دعوے اور جھوٹی گرفتاریاں دراصل ایک وسیع تر ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ ہیں، جس کے تحت نفسیاتی جنگ، جعلی ایسوسی ایشنز اور میڈیا کے ذریعے سنسنی پھیلا کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جاتا ہے۔درحقیقت بھارت نے جو دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے،مالیگائوں، سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد جیسے سانحات میں ملوث ہندوتوا دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ عالمی برادری کو بھارت کے اس رویے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت کی طرف سے انسداد دہشت گردی کا ایک سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال صرف سچ کو کچلنے کی کوشش ہے۔ یہ عمل دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بڑی رکاوٹ اور سچائی کے خلاف ایک منظم مہم ہے۔یہ انسداد دہشت گردی نہیں، بلکہ "کائونٹر ٹروتھ” ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button