پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر عالمی ثالثی کا خیرمقدم کیا، مقبوضہ کشمیر میں کتابوں پر پابندی کی مذمت

اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے حل میں سہولت فراہم کرنے میں امریکا یا کسی دوسرے ملک کی دلچسپی کا خیر مقدم کرے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شفقت علی خان نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بات چیت کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان معمول کے سفارتی تبادلوں کے علاوہ کوئی رابطہ نہیں ہے۔
انہوں نے ان رپورٹس کہ بھارت جموں خطے کو ریاست کا درجہ دے سکتا ہے جبکہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کو بدستور مرکز کے زیر انتظام رکھے گا ، کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ یہ پورا علاقہ متنازعہ ہے جسکی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے تحت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کی طرف سے ارون دھتی رائے، مولانا ابو اعلیٰ مودی اور دیگر بھارتی اور عالمی مصنفین کی 25کتابوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غیر قانونی حکمرانی کی ایک اور مثال ہے۔
شفقت علی خان نے یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔






