بھارت:انسداد تجاوزات کی آڑ میں مسلمانوں کے گھروں، کاروبار وں کو گرایا جارہا ہے
نئی دہلی:عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت میں بلڈوزر جسٹس کے نام پر انصاف کو روندا جانے لگا ہے کیونکہ ان کارروائیوں کے دوران گھروں اورکاروبارسمیت مسلمانوں کی املاک کو تباہ کیاجارہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں کہاگیاکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کی آڑ میں مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے گھر اور کاروبار کو گرایا جا رہا ہے جسے بھارتی سپریم کورٹ پہلے ہی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بلڈوزر کارروائیاں دراصل مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا ہتھیار بن چکی ہیں۔حکمراں جماعت بی جے پی اور ریاستی حکومتوں کا موقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کسی بھی شخص پر الزام لگنے یا جرم ثابت ہونے سے قبل اس کا گھر گرائے جانے کو انسانی حقوق کے خلاف اور ماورائے قانون قرار دیا تھا۔جب سے نریندرمودی نے اقتدار سنبھالا ہے ، ہزاروں مسلمانوں کو انسداد تجاوزات کی آڑ میں اپنے گھروں اورزمینوں سے بے دخل کیا گیا ہے اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔







