ترال میں ایک جھوٹے کیس میں سرکاری ملازم نوکری سے برطرف

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے جنوبی کشمیر کے علاقے ترال میں ایک سرکاری ملازم کو ایک جھوٹے کیس پر نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق برطرف کیے گئے ملازم کی شناخت فاروق احمد نجار کے نام سے ہوئی ہے جو اریگیشن ڈویژن ترال میں ایک چوکیدار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اسے کالے قانون کے تحت درج مقدمے میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔فاروق نجار کو 2024میں پولیس اسٹیشن کاکہ پورہ میں درج ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔قابض حکام نے کیس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا اور آئندہ کسی سرکاری ملازمت کے لئے بھی نااہل قرار دے دیا۔ بھارت میں2014میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سینکڑوں کشمیری ملازمین کو جھوٹے الزامات پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ انہیںکبھی مجاہدین کے معاون ہونے، کبھی بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوٹ ہونے اور کبھی منشیات سے متعلق مقدمات میں پھنسایاجاتا ہے۔







