بھارت کیخلاف پاکستانی میزائلوں کی کامیابی ، امریکا بھی میزائل پروگرام تیز کرنے پر مجبور

اسلام آباد: امریکی جریدے” بلوم برگ“ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کیخلاف پاکستانی میزائلوں کی کامیابی نے امریکا کو بھی میزائل پروگرام تیز کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جریدے نے لکھا کہ پاکستان کی فضائیہ نے چینی ساختہ پی ایل 15 میزائل کا کامیاب استعمال کرتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں کو 100 میل سے زائد فاصلے پر مار گرایا، بغیر اس کے کہ پاکستانی جیٹ طیاروں کو جوابی فائر کا خطرہ لاحق ہو۔اس واقعے نے عالمی سطح پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور امریکی فوج کو اپنی فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان کے اس کامیاب آپریشن نے خطے میں فضائی برتری کا توازن تبدیل کردیا، جس کے جواب میں امریکی ائیر فورس اور نیوی نے لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ ای ائی ایم 260 میزائل کی تیاری کے لیے مالی سال 2026 میں ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کی ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق ای آئی ایم 260، جسے "جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل” بھی کہا جاتا ہے، ایف 22 اور ایف 35 طیاروں کے اندرونی ہتھیاروں کے خانوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسے ایف 16، ایف 15 اور مستقبل میں بغیر پائلٹ کے جنگی طیاروں کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے گا۔
امریکی ائیر فورس کا کہنا ہے کہ” چینی ساختہ پاکستان کے پی ایل 15 میزائل کے کامیاب استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حریف (چین) نے ہماری فضائی برتری کے جواب میں اپنی صلاحیتوں کو ترقی دی ہے۔ لہذا ایک جدید میزائل جو جدید خطرات کو ناکام بنا سکے، امریکی فضائی برتری کے لیے ناگزیر ہے۔“





