بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق کیس کی فوری سماعت سے انکار

سرینگر: بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کی سماعت 10اکتوبر کو کی جائے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل نے سپریم کورٹ سے دفعہ370کی منسوخی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی فوری سماعت کی استدعا کی۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جانا تھا جیسا کہ پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔تاہم چیف جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی میں بنچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 10اکتوبر کو مقرر کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملے کو صدارتی ریفرنس پر آئینی بنچ کو دیکھنا ہو گا اور مقررہ تاریخ سے پہلے اس پر کارروائی نہیں کی جاسکتی۔اس سے قبل 14 اگست کو سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت کو ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواست پر آٹھ ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت بنچ نے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں 26افراد ہلاک ہوئے تھے، کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرتے وقت موجودہ زمینی صورت حال کو مدنظررکھناہوگا۔ریاستی حیثیت کی بحالی میںمسلسل تاخیر سے سیاسی مبصرین میں تشویش بڑھ رہی ہے جو نئی دہلی کی ہچکچاہٹ کو جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی معاہدوں کے برخلاف مقبوضہ علاقے پر اپنے براہ راست کنٹرول کو طول دینے کے لیے ایک سوچا سمجھا منصوبہ سمجھتے ہیں۔






