بھارت کی آبی جارحیت کے باعث پاکستان میں ہزاروں دیہات اورفصلیں زیر آب

لاہور: بھارت نے آبی جارحیت کی ایک تازہ کارروائی کرتے ہوئے دریائے ستلج میں پانی کا ایک بڑا ریلا چھوڑ دیا ہے جس سے قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا میں بڑے پیمانے پر طغیانی آگئی، دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں ایکڑاراضی پرموجود فصلیں تباہ ہوگئیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیلابی پانی نے بورے والا، بہاولنگر اور بہاولپور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں کپاس، چاول اور تل کے کھیت پانی میں ڈوب گئے جب کہ دیہی سڑکوں میں شگاف پڑنے سے سیکڑوں دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔سیلا ب سے خوف کا شکار بے شمار خاندان اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے اورمحفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبورہوئے۔لاہور میں فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی تصدیق کی ہے جبکہ دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراجوں پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔لوگوں اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔مبصرین نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک پانی چھوڑنے کا مقصد پاکستانی کسانوں کی مشکلات کو بڑھانا ہے، جس سے پاکستان کے خلاف اس کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔







