بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست، بہار میں انتخابات کا جمہوری عمل بے وقعت ہوکر رہ گیا

پٹنہ (کے ایم ایس) وزیر اعظم نریندر مودی نے جاپان کے اپنے دورے کے دوران بھارت میں بڑے زور و شور سے سیاسی استحکام کی بات کی تاہم ریاست بہار میں ان کی اپنی پارٹی بی جے پی حزب اختلاف کے ساتھ جو نارواسلوک روا رکھے ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بہارکے دارلحکومت پٹنہ میں بی جے پی اور حز ب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے درمیان مخاصمت انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔وزیرِاعظم نریندر مودی ایک طرف جاپان میں بیٹھ کر دنیا کو بھارت کے سیاسی استحکام کے قصے سنا رہے ہیں ، دوسری طرف ان کی اپنی جماعت بی جے پی نے بہار میں ایک طوفان برپا کررکھا ہے۔ راہول گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران کھڑا کیا گیا نام نہاد ”گالی تنازعہ“کانگریس کی بدانتظامی نہیں بلکہ بی جے پی کی ایک منصوبہ بند سازش ہے جس کا مقصدریاست میں ماحول کو فرقہ وارانہ بنانا اور عوام کی توجہ غربت، بے روزگاری اور دیگر ناکامیوں سے ہٹانا ہے۔
”گالی والا معاملہ“دراصل بی جے پی کا ترتیب دیا گیا وہ اسکرپٹ ہے جسکی اس کی پروپیگنڈا مشینری اور ہمنوا میڈیا نے خوب تشہیر کی۔حقیقت یہ ہے کہ راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی کی والدہ مرحومہ کے حوالے سے کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی۔ آزاد ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ نازیبا نعرے نامعلوم افراد نے اس وقت لگائے جب راہول اسٹیج سے جاچکے تھے۔ کانگریس نے غلط زبان کی فوری مذمت بھی کی، مگر بی جے پی حقیقت تسلیم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے کیونکہ اس کی سیاست بنیاد جھوٹ اور فریب پر کھڑی ہے۔ بی جے پی کا واقعے کی مشکوک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلانا،امیت شاہ، جے پی نڈا، سمرات چودھری، جے ڈی یو، ایچ اے ایم(ایس)) کی اس حوالے سے چیخ و پکار، بی جے پی کارکنوں کیطرف سے کانگریس رہنماﺅں کے پتلے جلانا، مار دھاڑ، مظاہرے سب الیکشن سے پہلے ووٹرز کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش ہے۔ بی جے پی اس معاملے کو وزیراعظم مودی کی والدہ کی تکریم یا انکے خاندان کی عزت کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ہندو توا جماعت اس واقعے کی آڑ میں اصل مسائل بے روزگاری، غربت اور حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔نریندر مودی دنیا کو بھارت کی سیاسی بلوغت کے لیکچر دیتے ہیں مگر ان کی اپنی پارٹی کی بنیادیں جھوٹ، نفرت ،عداوت اور تعصب پر استوار ہیں۔بی جے پی کی جھوٹ پر مبنی یہ سیاست فرقہ وارانہ تقسیم اور جمہوری اقدار کی بربادی کا باعث بن رہی ہے۔بہار میں رواں برس نومبر میں انتخابات متوقع ہیں مگر بی جے پی ریاست میں عدم برداشت، جھوٹ اور نفرت کا جو کھیل کھیل رہی ہے اس سے اس جمہوری عمل کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے۔





