الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!
تحریر: محمد فاروق رحمانی
کے مصداق نام نہاد اوقاف کمیٹی سرینگر کشمیر کی نام نہاد چیئرپرسن درخشاں اندرابی اور ایک اور بی جے پی افسر ہندوتوا نے اپنے الگ الگ بیانات میں ان پرامن کشمیری مظاہرین کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے اور انہیں درگاہ حضرت بل پر اشوکا مجسمہ کو توڑنے اور ہٹانے کی کوشش کرنے پر سخت ترین سزائیں دینے کے مطالبات کیے ہیں۔ بلکہ ان لوگوں کی گرفتاریاں ہوگئی ہیں اور انہیں نامعلوم اذیت خانوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ اوقاف کمیٹی کی نام نہاد خاتون چیئرپرسن درخشاں کی پہلے کبھی شناخت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ کہ ہندوستان یا جموں وکشمیر میں بی جے پی کا طریقہ واردات ہمیشہ گھناؤنا اور خطرناک رہا ہے۔ یہ راشٹر سوئم سیوک سنگھ کا سیاسی بازو ہے جس نے جنگ آزادی میں کوئی قربانی ار نہیں دی ۔
برعکس یہ تنظیم پہلے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے آخری ایام میں فساد اور انتشار میں ملوث رہی اور آزادی کے بعد آر ایس ایس نے مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری کی خوفناک مہم چلائی تھی ۔اکتوبر اور نومبر 1947ء میں اسی تنظیم اور کئی ہندوستانی مہاراجوں نے سازش کرکے جموں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا تھا اور لاکھوں مسلمان سیالکوٹ پاکستان کی طرف دھکیل دیے گیے تھے۔ 2013ء میں اس کے سیاسی بازو بی جے پی نے ہندوستان میں سادہ اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالا اور نریندرا مودی کو ہندوستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔چنانچہ اگلے 5 سالوں میں اس حکومت اور تنظیم نے ہندوستان اور جموں وکشمیر میں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی کی۔ 2018 کے الیکشن میں بی جے پی کو دو تہائی اکثریت ملی اور اس نے ہندوستانی مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف ہندوستان اور جموں وکشمیر میں اپنے اسلام دشمن منصوبے مختلف روپوں میں رو بعمل لانے کی شروعات کیں۔ جن میں ملک بھر میں شہریت کے قوانین تبدیل کرنے۔جموں وکشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور بھارت میں ضم کرنے اور اسلامی اوقاف اور مدرسوں اور پرنٹگ ہاؤسوں اور فلاحی اداروں اور درسگاہوں کو بند کرنے کے بہت سارے اقدامات شامل تھے۔جموں وکشمیر اوقاف پر تسلط کرنے اور ایک مشکوک خاتون کو اسلامی روایات کی سرتابی کرتے ہوئے چئیرمین بنادیاگیا۔ اس نے ہندوستان اور جموں وکشمیر کو مکمل ہندوتوا ۔۔ریاستوں کی شکل دینے کی منصوبہ بندی کی ۔ نریندرا مودی اور امیت شا کی سربراہی میں ہندوستان کا غیر مذہبی یا سکیولر نام کا رہا۔ اب ہندوستان کے کثیر المذاہب ملک پر ہندوتوا کی حکمرانی ہے۔ حالانکہ یہاں 25 کروڑ مسلمان آباد ہیں اور اگر مکمل مزہبی آزادی دی جائے اور مذاہب میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔تو یقین ہے کہ ملک بھر قبول اسلام کی لہر پھیلے گی ۔ جموں وکشمیر تو بہرحال ایک الگ مسلم اکثریتی خطہ ہے اور اس نے ہندوستان کے غیرقانونی اور جابرانہ تسلط کو زینہار تسلیم نہیں کیا۔ ان حالات میں ایک ہندوتوا آر ایس ایس حکومت کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے اوقاف اپنی تحویل میں لے اور ان کے بارے قانون سازی کرے۔ اور پھر اسلامی تہزیب و تمدن اور توحید کے خلاف درگاہ حضرت بل کی مسجد یا کسی بھی مسجد پر کوئی مجسمہ یا اشوکا نصب کرے۔ جب نماز پڑھنے والوں نے اس مجسمے کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ کوئی پہاڑ ان کے سروں پر آن پڑا اور وہ بلند آواز سے پکارنے لگے۔ یہ ان کا دینی فرض تھا جو عوام نے اس وقت ادا کیا۔ بی جے پی کو جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اشوکا کا مجسمہ نصب کرنا توہین اسلام ہے۔ اسے بلا تاخیر ہٹایاجایے۔ موجودہ اوقاف کمیٹی کو توڈ دیاجائے اور آزادانہ الیکشن کے ذریعے سے نئی اوقاف کمیٹی کی تشکیل کی جائے اور گورنر کی انتظامیہ کوئی مداخلت نہ کرے اور اس سلسلے میں تمام گرفتار شدگاں کو رہا کیا جایے، ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔ پاکستان کو اس سلسلے میں یہ مسئلہ جنرل اسمبلی کے اگلے اجلاس میں اٹھانا چاہیے اور دوست ممالک اور دوست تنظیموں بشمول او آئی سی کو اعتماد میں لینا چاہئے تاکہ بی جے پی کی ہندوستان اور جموں وکشمیر میں اسلام اور عقائد و شریعت کے خلاف سازشوں اور منصوبہ بندیوں کو طشت از بام کیا جائے۔ و ما علینا الاالبلاغ۔
مقالہ نگار محمد فاروق رحمانی جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق کنوینر ہیں۔ ہے





