بھارتی دہشت گردی کا ایک اور بڑا ثبوت :پشاور سے حاضر سروس بھارتی فوجی افسر گرفتار
اسلام آباد :پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس افسر میجر دل بہار سنگھ کو پشاور سے گرفتار کرلیا ہے ۔ بھارتی میجر کی گرفتاری پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی بھارتی کوششوںکا ایک اور ثبوت ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی میجر”داو¿د شاہ“ کے نام سے یہاں رہ رہا تھا اور خود کو پشاور کے مضافات میں ایک مسجد کا امام ظاہر کر رہا تھا۔ حساس اداروںنے کئی ہفتوں کی نگرانی کے بعد اسے دھر لیا ۔ اسے فجر کی نماز کے وقت گرفتار کیا گیا۔ بھارتی جاسوس میجر کی گرفتاری پاکستان کے حساس اداروںکی ایک بڑی کامیابی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ بھارتی افسر حساس معلومات اکٹھی کرنے کے علاوہ فرقہ وارانہ تفرقہ بھڑکانے کی کوشش بھی کر رہا تھا ۔
میجر کی گرفتاری پاکستان میں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کا ایک اور ثبوت ہے۔ پاکستان نے مارچ 2016 میںبھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کااعتراف کر چکا ہے۔ قبل ازیں1980 کی دہائی میں رویندر کوشک نامی بھارتی پکڑا گیا تھا جبکہ ایک اور بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کو 1990 میں جاسوسی کا مجرم قرار دیاگیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ میجر دل بہار سنگھ کی گرفتاری اس بات کا تازہ ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا راگ الاپنے والا بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے اپنے خاضر سروس فوجی افسروں کو بھیجنے کا مذموم عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔







