پاکستان: ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر علاقائی امن کا ضامن
اسلام آباد:
پاکستان نے ایک بار پھر خود کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوا ہے، جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عالمی قوانین کی پاسداری، کم سے کم قابل اعتماد دفاعی صلاحیت اور فعال سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور عسکری مہم جوئی کے خلاف ایک موثر اور پرامن دفاعی حکمت عملی اختیار کی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر شفاف، بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اور پر امن دفاعی مقاصد تک محدود ہے۔ اس کا مقصد نہ تو طاقت کا مظاہرہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جارحیت، بلکہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی امن کا تحفظ ہے۔بھارت کی جانب سے سرحد پار اشتعال انگیزی، پراکسی کارروائیاں اورہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے اقدامات کے باوجود پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔دیرینہ تنازعہ کشمیر، افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور پر پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دی ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز،اسلامی تعاون تنظیم ،اقتصادی تعاون تنظیم اور دیگر علاقائی و عالمی فورموں میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے تاکہ خطے میں تعاون، ہم آہنگی اور اعتماد سازی کو فروغ دیا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ ایٹمی رویہ نہ صرف خطے میں بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف مضبوط دفاع ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن پسند اور قانون کی پاسداری کرنے والی ایٹمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت کی جارحانہ حکمت عملی اور خطے میں عدم استحکام پید اکرنے والے اقدامات کیخلاف پاکستان نے خود کو ایک باوقار، ذمہ دار اور امن دوست ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے پاکستان دنیا میں امن پسند، قانونی شعور رکھنے والی ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی ساکھ کو مستحکم کررہاہے۔







