سکھ

سکھ فار جسٹس نے بھارت کی عالمی دہشتگردی کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا

بھارت خالصتان تحریک کے کارکنوں پر حملوں میں ملوث ہے ، تنظیم کی طرف سے جاری میمو میں انکشاف

نیویارک:
امریکہ میں قائم سکھوں کی تنظیم "سکھ فار جسٹس”نے 2023 کا ایک انتہائی خفیہ اور ہوش ربا میمو منظر عام پر لاکر بھارت کی ریاستی سرپرستی میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا نیٹ ورک بے نقاب کردیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سکھ فارجسٹس کی طرف سے منظر عام پر لائے گئے اس میمو پراس وقت کے بھارتی سیکریٹری خارجہ” ونے کواترا” کے دستخط موجود ہیں جواب امریکہ میں بھارت کے سفیرہیں ۔میمو میں بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں را، این آئی اے اورآئی بی کو بیرونِ ملک خالصتان تحریک کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کی واضح ہدایات دی گئی تھیں۔میمو میں بیرون ملک بھارتی سفارتی مشنز اور ہندو تنظیموں کوبھی خالصتان تحریک کے کارکنوں کے خلاف خفیہ اورمذموم کارروائیاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ میمو میں خاص طور پر کینیڈا میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا ذکر بھی موجود ہے، جسے بعد میں کینیڈا میں قتل کیا گیا۔ یہ میمو عالمی سطح پر بھارت کی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کا واضح ثبوت ہے ۔سکھ فار جسٹس کا کہنا ہے کہ یہ میمو صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند عالمی سازش کا ثبوت ہے، جس کے تحت بھارتی سفارتخانے جاسوسی کے اڈے بن چکے ہیں اورانتہا پسند ہندو تنظیموں کو بیرونِ ملک خالصتان تحریک کے کارکنوں کو قتل کرنے کیلئے استعمال کیاجارہاہے ۔سکھ فار جسٹس کے مطابق، بھارت کی یہ کارروائیاں کسی انفرادی یا عارضی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ریاستی پالیسی اور عالمی دہشت گردی اور خوف پھیلانے کی بھارت کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد اپنے توسیع پسندانہ اور ظالمانہ ایجنڈے کو چیلنج کرنے والے کارکنوں کو خاموش کرنا ہے۔ تنظیم نے کینیڈین حکام بشمول وزیر اعظم مارک کارنی کو آگاہ کیا ہے کہ کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں RCMPاور CSISبھارت کے زیرقیادت سکھوں کے قتل کے منصوبوں سے پہلے ہی باخبر ہیں۔سکھ فار جسٹس نے کہاہے کہ بھارت کے یہ مذموم اقدامات جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی خودمختاری پر کھلا حملہ ہیں اور اسے ایک باغی ریاست کے طور پر بے نقاب کرتے ہیں جو اپنے سفارتی چینلز اور خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زوردیاکہ اگر بھارت کو فوری طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ نہ بنایا گیا تو مزید بے گناہ جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button