نیٹو کی آسٹریا کمیٹی کے صدر گنٹر فہلنگر کا بھارت پر کاری وار
بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی اورمودی کو روس کا کارندہ قرار دیدیا
ویانا:
نیٹو کی آسٹریا کمیٹی کے صدر گنٹر فہلنگر نے بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو "روس کا کارندہ” قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گنٹر فہلنگر نے جو ماہر معاشیات، سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیت بھی ہیں انکشاف کیاہے کہ بھارت کو اس جھوٹے لبادے کو اتار پھینکا چاہیے جو دہائیوں سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ظاہر کرتا آیا ہے۔انہوں نے ایکس انڈیا کا نعرہ اوربھارت کا تقسیم شدہ نقشہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارت آمریت، فرقہ واریت اور توسیع پسندی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ گنٹر فہلنگر کی طرف سے نریندر مودی کو روس کا کارندہ قرار دینے سے ظاہر ہوتاہے کہ بھارت مغرب کا اتحادی ہونے کاصرف ڈھونگ رچاکر روس کی جنگی معیشت کو مالی سہارا دے رہا ہے۔بھارت روس سے اربوں ڈالر مالیت کا تیل درآمد کر کے ماسکو پر مغربی پابندیوں کو سبوتاژ کرتا ہے اورروسی تیل برآمد کر کے اربوں ڈالرکامنافع کماتا ہے۔بھارت کی ہندوتواریاستی سوشل میڈیا فوج نے گنٹر فہلنگرکے اس بیان کے بعد فوراحرکت میں آتے ہوئے انہیں نیٹو عہدیدار ماننے سے انکار کر کے حقیقت کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن گنٹر فہلنگر یوکرین، کوسوو، بوسنیا اور آسٹریا کی نیٹو رکنیت کے لیے قائم آسٹریائی کمیٹی کے صدر ہیں اور جنوبی بلقان کے خطے میں اقتصادی انضمام کے لیے قائم ایکشن گروپ کے بورڈ کے رکن بھی ہیں۔ میڈیا رپوٹس کے مطابق اکتوبر 2023میں فہلنگر نے خالصتان تحریک کے کارکنوں کے ساتھ آزادی سے متعلق کھل کر بات کی تھی ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خالصتان تحریک صرف زندہ نہیں بلکہ یورپ میں بھرپور پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔بھارت ملک میں سکھوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر جاری وحشیانہ مظالم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دہشتگردی سے جوڑ کر خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر فہلنگر نے بھارت کی حقیقت بے نقاب کردی ہے: مودی کی فسطائی ہندوتوا پالیسیاں آزادی کی تحریکوں کو جِلا بخش رہی ہیں اور عالمی برادری اب اس سچائی کو نظرانداز نہیں کر رہی۔ بھارت کا جمہوری ملک ہونے کا کھوکھلا دعویٰ بے نقاب ہو رہا ہے ۔





