اتر پردیش: ہندو توا غنڈوں کا مسلم نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد
تامل ناڈو میں دلت لڑکے کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا
نئی دہلی:
بھارتی ریاست اترپردیش میں ہندو توا غنڈوں نے دو مسلم نوجوانوں کو گائے سمگلنگ کے جھوٹے الزام میں مارپیٹ کا نشانہ بنایا ۔ریاست تامل ناڈو میں ایک دولت نوجوان کو دوسری ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے بات کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اتر پردیش کے علاقے پیلی بھیت میں مسلم نوجوانوں عابد اور ساجد پر گائے کی اسمگلنگ کے جھوٹے الزام میں سخت تشدد کیا گیا۔وہ گائے اور اسکے بچھڑے کو ایک ہندو شخص مان سنگھ کے پاس لے جا رہے تھے ۔ ان کے پاس گائے کی فروخت کی ضروری دستاویزات بھی تھیں لیکن اسکے باوجود ہندو غنڈوں نے انہیں مار ا پیٹا اور بعدازاں انہیںپولیس کے حوالے کیا۔
تامل ناڈو کے دارلحکومت چنئی کی سیکرٹریٹ کالونی میں ہندو توا غنڈوں نے 17سالہ دلت لڑکے کو محض اس بنا پر برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا کیوںکہ اس نے دوسری برادری کی لڑکی سے بات کی تھی۔ لڑکے پر تشد د میں ملوث غنڈوں کی شناخت بی جے پی کارکن سراوانن اور اسکے بھائی لوگیش کے طورپر ہوئی ہے.






