پاکستان یواین جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حالت زار اجاگر کرنے کیلئے پرعزم
اقوام متحدہ: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس آج سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 150سے زائد سربراہانِ مملکت اور وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف 26 ستمبر کو 193 رکنی اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ مختلف عالمی امور خاص طور سے فلسطین اور کشمیر کے حوالہ سے پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی شرکت کثیرالجہتی اور اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کی مضبوط وابستگی کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے عالمی امن اور ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم خطاب میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کریں گے کیونکہ یہ دونوں مسائل طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہے ہیں۔اس کے علاوہ، وزیر اعظم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، اور دہشت گردی کے خطرے جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالیں گے۔انہو ں نے کہاکہ وزیرِ اعظم عالمی برادری کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے نقطہ نظر کو پیش کریں گے، جو ملک کو سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں شدید متاثر کر چکا ہے۔
واضح رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس سال کے اجلاس میں غزہ اور یوکرین میں جاری جنگیں، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ جوہری کشیدگی جیسے مسائل زیر بحث رہیں ۔اس کے علاوہ، وزیر اعظم اس موقع پر کئی اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں مختلف عالمی رہنمائوں اور اقوام متحدہ کے اعلی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال شامل ہے۔وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی اسلامی رہنماں کے ایک اجلاس میں شرکت کریں گے۔







