لداخ کے حالیہ احتجاجی مظاہروں سے بھارت کا گمراہ کن بیانیہ ایک بار پھربے نقاب ہوا: حریت کانفرنس

اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کہاہے کہ لداخ کے حالیہ عوامی احتجاجی مظاہروں سے بھارت کا یکطرفہ اور گمراہ کن بیانیہ ایک بار پھربے نقاب ہوا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجمو ں وکشمیر شاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت عالمی سطح پرمسلسل یہ پروپیگنڈا کرتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور عوام نے دفعہ370اور 35A کی منسوخی کو تسلیم کر لیا ہے۔ تاہم لداخ میں گزشتہ دنوںہونے والے احتجاجی مظاہرے، بھوک ہڑتالیں اور عوامی غم و غصہ اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ خطے کے عوام بھارتی اقدامات کو کسی صورت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور وہ اپنے بنیادی سیاسی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر قابض بھارتی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ، جس کے نتیجے میں چار نہتے شہری ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہوئے، انسانیت سوز جرم اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں بلکہ خود بھارت کے جمہوری دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ بیان میں کہاگیاکہ مظاہرین کی آواز دبانے کے لیے کرفیو نافذ کرنا اور پورے علاقے کو فوجی چھائونی میں تبدیل کرنا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بھارت عوامی تائید سے محروم ہوچکا ہے اور وہ صرف طاقت کے بل پر اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔بیان میںکہاگیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق، گولی اور ریاستی جبر سے کبھی عوامی امنگوں اور آزادی کی جدوجہد کو دبایا نہیں جاسکا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام نے اپنی قربانیوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق، یعنی حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بیان میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ لداخ میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا فوری نوٹس لیں اور بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی پر بھارت کو جواب دہ بنائیں اورتنازعہ جموں و کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ بیان میں کہاگیاکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کی عظیم قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، تنازعہ کشمیر کو حل کرنے اورجنوبی ایشیا میں پائیدار امن واستحکام کے قیام کا واحد راستہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دیا جائے۔






