مقبوضہ جموں و کشمیر

لداخ 2019کے اقدامات کی قیمت چکا رہا ہے، کشمیری عوام خصوصی حیثیت واپس چاہتے ہیں: آغاروح اللہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سرینگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کہاہے کہ لداخ کے لوگ اب اگست 2019کے فیصلے کے نتائج بھگت رہے ہیں جس کے تحت خطے کو جموں و کشمیر سے الگ کردیا گیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آغاروح اللہ نے گاندربل کے علاقے سونہ مرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کو ان کے دیرینہ مطالبات پر توجہ دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے زائد عرصے سے لداخ کے لوگ پرامن طریقے سے چھٹے شیڈول کے تحت ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کررہے ہیںلیکن ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ لہہ میں حالیہ مظاہروں اور ہلاکتوں کو ان کی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،ان کی امنگوں پر توجہ دینے کے بجائے انہیں ملک دشمن قراردیا جا رہا ہے۔ اگر لداخ کے لوگ جموں و کشمیر میں دوبارہ شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں، اگر وہ چھٹے شیڈول کے تحفظ کے خواہاں ہیں، تو جموں اور کشمیر کے عوام ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔این سی رہنما نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبول آوازوں کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں کی کوئی پرواہ نہیں ،ہمارے مطالبات ریاستی حیثیت کی بحالی سے کہیں زیادہ ہیں، ہم خصوصی حیثیت کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ جب ہم ان مسائل کو جمہوری طریقے سے اٹھاتے ہیں تو حکومت سننے کے لئے یتارنہیں۔روح اللہ مہدی نے اپنے پارٹی رہنما اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے حالیہ بیان کی بھی تائید کی جس میں بی جے پی کو علاقے میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے پر زوردیاگیاہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button