مضامین

آرٹیکل 370: تحفظ کی دیوار جو گرائی گئی

تحریر: محمد شہباز

لداخ، جو اپنے قدرتی حسن، خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کیلئے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، آج بھارتی فوجی جبر اور ظلم وبربریت کی نذر ہوچکا ہے۔اس خطے کے باسی اپنے بنیادی حقوق، اپنی زمین اور اپنی شناخت کے تحفظ کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن جواب میں انہیں بھارتی گولیوں اور قید وبند کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔24ستمبر کو لداخ کی فضا اس وقت سوگوار ہوگئی جب بھارتی فوجیوں نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ چار معصوم لداخیوں کو زندگیوں سے محروم کردیا گیا اور درجنوں زخمی اسپتالوں میں پڑے اپنی سانسوں کیساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے اپنے حقوق کیلئے پرامن آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی جمہوریت کا یہ کون سا روپ ہے جو معصوم کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو رہا ہے؟ظلم کی ایک اور مثال یہ ہے کہ بھارتی فوجیوں نے ایک ایسے شخص کو بھی نشانہ بنایا جو خود ماضی میں فوجی رہ چکا تھا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارتی ظلم وجبر کے سامنے کشمیری کوئی حیثیت، کوئی وابستگی اور کوئی درجہ معنی نہیں رکھتا۔ بس طاقت کا وحشیانہ استعمال ہے اور عوام کو دبانے کی کوشش ہے۔لواحقین کوبندوق کے بل پرمرنے والوں کی آخری رسومات ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔جبکہ عام لوگوں کو ان کی رسومات میں شرکت سے باز رکھا گیا،جس کا لداخی عوام کو پہلی بار تجربہ ہوا۔حالانکہ اہل کشمیر کو نہ تو اپنے پیاروں کی میتیں واپس ملتی ہیں اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ ادا کرنے دی جاتی ہیں۔حتی کہ معروف آزاد پسند کشمیری رہنمائوں سید علی گیلانی،محمد اشرف خان صحرائی،پروفیسر عبدالغنی بٹ ،الطاف احمد شاہ کی تدفین رات کی تاریکیوں میں کرائی گئیں اور صرف ان کے لواحقین ہی نماز جنازہ میں شریک ہوسکے۔لداخی عوام کو پہلی بار بھارت کے اصل اور بھیانک چہرے کا اندازہ ہوگیا،کہ یہ کس قدر خوفناک ہے اور بھارتی حکمران جمہوریت پسند نہیں بلکہ فسطائی سوچ کے مالک ہیں۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 ایک ایسی آئینی شق تھی جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے تینوں خطوں وادی کشمیر،جموں اور لداخ کو خصوصی حیثیت فراہم کرتی تھی۔ اس شق کے تحت نہ صرف ریاست کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی بلکہ اس کے ذریعے ریاست کے لوگوں کو زمین، روزگار اور ثقافت سے متعلق مخصوص تحفظات بھی حاصل تھے۔ اس آرٹیکل کا خاتمہ 5 اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر کیا ہے،جس کے مہلک اثرات جموں و کشمیر کیساتھ ساتھ خطہ لداخ پر بھی بہت گہرے مرتب ہوئے۔ گوکہ لداخ کے بدھسٹ رہنمائوں نے 05اگست2019میں آرٹیکل 370اور35اے کی منسوخی پر بغلیں بجائیں،مگر وقت نے انہیں نہ صرف غلط ثابت کیا بلکہ آج انہیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ،ندامت اور شرمندگی ہے۔جس کا وہ کھلے بندوں اب اعتراف بھی کرتے ہیں۔انہی میں لداخ کے سینئر رہنما اور لہہ ایپکس باڈی کے سرکردہ رکن چیرنگ دورجے لکروک نے حالیہ بیان میں دفعہ 370 کو "ایک حفاظتی ڈھال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ لداخ کی زمین، ثقافت اور معیشت کو تحفظ فراہم کرتی تھی۔ اس شق کی موجودگی میں مقامی عوام کو اپنے وسائل پر مکمل اختیار حاصل تھا اور باہر کے سرمایہ داروں اور زمینوں پر قابض ہونے کے خدشات نہیں تھے۔دورجے لکروک کا کہنا تھا:”دفعہ 370 ہماری زمین کے دفاع، ثقافتی شناخت کے تحفظ اور مقامی معیشت کی پائیداری کی ضامن تھی۔ اس کے ختم ہوتے ہی لداخ ایک خطرناک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔جبکہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد لداخ کے عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ اب یہاں کے وسائل، زمین اور روزگار پر باہر سے اثر انداز ہونے والوں کا خطرہ موجود ہے۔اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو لداخی عوام اپنی شناخت،زمینوں و نوکریوں کو حاصل تحفظ اور اپنی ثقافت سے محروم ہوجائیں گے،جو ان کی آنے والی نسلوں کیلئے بھی تباہی و بربادی ہی لائے گی۔لہذا یہ موزوں وقت ہے کہ ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کو بچانے کیلئے کوشش کریں۔

بلاشبہ 370 کی منسوخی نے لداخ کو بغیر کسی تحفظ کے پورے بھارت کے سرمایہ داروں کیلئے کھول دیا ہے۔ یہ بیرونی سرمایہ دار لداخ کی زمینیں خرید رہے ہیں، ہوٹلوں کے بڑے بڑے نیٹ ورک قائم کیے جارہے ہیں اور مقامی لوگ تیزی سے اپنی اصل حیثیت اور شناخت کھو رہے ہیں۔ لداخیوں نے ماضی میں دفعہ 370کو برابھلا کہا لیکن اسی شق نے 78برسوں تک ان کی حفاظت کی۔ انکی سرزمین کو تحفظ دیا۔یہاں تک کہ جموں و کشمیر کے دوسرے دونوں خطوں کے لوگ بھی لداخ نہیں جاسکتے تھے۔لیکن اب لداخ پورے بھارت کیلئے کھول دیا گیا ہے۔جس کے بعد لداخی عوام اپنی شناخت اور ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ لداخ میں جاری احتجاج ایک قدرتی امر ہے جس میں ہزاروں پڑھے لکھے لیکن بے روزگار نوجوان پیش پیش ہیں۔ آج جو لاوا خطہ لداخ میں پھٹ رہا ہے ،وہ 2019میں یونین ٹیریٹری کی تشکیل کے بعد چھ برسوں سے لوگوں میں بھارتی حکومت کے خلاف نفرت اور غم و غصے کی علامت ہے کیونکہ آرٹیکل 370اور35اے کے خاتمے کے موقع پر لداخی عوام کو سبز باغ دکھا کر ان کیساتھ جو وعدے کیے گئے،وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ کوئی پبلک سروس کمیشن یا لوکل کیڈر قائم نہیں کیا گیا،خطے میں نئی آسامیاں پیدا نہیں کی گئیں اور بھرتیاں کنٹریکٹ پر کی جارہی ہیں جس سے بدعنوانی اور درمیانہ داروں کے استحصال کو بڑھاوا ملا ہے۔ خطے میں خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسلیں عملی طور پر غیر فعال ہیں ۔ تمام اہم اختیارات اب لیفٹیننٹ گورنر اور بیوروکریٹس کے پاس ہیں جس سے مقامی لوگ بے اختیار ہو گئے ہیں۔ آج کمشنر اور سیکرٹری لداخی عوام کے حکمران بن چکے ہیں۔ شمسی توانائی کے منصوبے جیسے بڑے کارپوریٹ پروجیکٹس سے نازک چراگاہوں کو خطرہ لاحق ہے اور پشمینہ بکریوں کے چرواہے نقل مکانی پر مجبورہونگے۔ 45ہزار ممکنہ بیرونی کارکنوں کی آمد سے 15ہزارمقامی کارکنوں کا حق مارا جائے گا ۔ چھٹے شیڈول کی آئینی ضمانت کو جس کا لداخی عوام بار بار مطالبہ کررہے ہیں،مودی حکومت نے یکسرنظر انداز کیا ہے۔بھارتی حکومت نے بیوروکریٹس کو مقامی رسم و رواج، روایات اور یہاں تک کہ گائوں کی قیادت میں مداخلت کرنے کی کھلی اجازت دی ہے۔ جس کے نتیجے میں لہہ اور کرگل کی سڑکوں پرجوغم وغصہ اس وقت دیکھا جاتا ہے۔اس نے دھوکہ دہی کے گہرے احساس کی کوکھ سے ہی جنم لیاہے۔

بھارتی حکومت کے جابرانہ طرز عمل کے بعد لداخ کے عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والی لہہ ایپکس باڈی نے حالیہ دنوں میں بھارتی حکومت کیساتھ جاری مذاکراتی عمل سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بارہا مذاکرات کے باوجود مودی حکومت کی جانب سے لداخ کے مطالبات خاص طور پر چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ، روزگار میں مقامی کوٹہ، زمین کے حقوق اور خودمختاری کی ضمانت پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔لہہ ایپکس باڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ:”ہم نے بھارتی حکومت کیساتھ مکمل سنجیدگی سے بات چیت کی، لیکن جب ہمارے بنیادی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ،جس کے باعث ہمیں مذاکرات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔یہ اعلان نہ صرف بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ لداخ میں عوامی بے چینی اور اضطراب میں بھی مزید اضافے کی عکاسی ہے۔مقامی قیادت کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر لداخ کو آئینی تحفظ نہ دیا گیا تو یہاں کی ثقافت، شناخت اور قدرتی وسائل کوشدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لداخ میں عوامی سطح پر مسلسل مظاہرے، دھرنے اور خاموش احتجاج ہو رہے ہیں۔ سونم وانگچک جیسے ماہرین تعلیم و سماجی کارکنان کی گرفتاریاں، پھر اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور بھارت کی راجستھان جودھپور جیل میں مقید کیا جانا۔انہیں اپنی اہلیہ سے ٹیلفونک رابطہ سے بھی محروم رکھنا ۔بھارت کی بدترین فسطائیت ہے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ لداخ کی نازک ماحولیاتی صورتحال پر توجہ دلا رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ لداخ کے لوگوں کو آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ نہ ان کی زمینیں چھینی جائیں، نہ ان کی ثقافت مٹائی جائے اور نہ ہی ان کی معیشت کو تباہ کیا جائے۔یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب لداخ کے باسی پہلے ہی آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد عدم تحفظ کا شکار ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد باہر سے آنے والے سرمایہ دار اور طاقتور لوگ لداخ کی زمینوں اور وسائل پر قابض ہورہے ہیں۔ مقامی لوگ اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہے ہیں۔ ان کی ثقافتی شناخت، ان کا طرزِ زندگی اور ان کا معاشی ڈھانچہ خطرے میں ہے۔

یہ سوال اب صرف لداخ کا نہیں،بلکہ یہ سوال بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر بھی اٹھتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو دنیا کے سامنے خود کو سب سے بڑی جمہوریت گردانتا ہے، لیکن معصوم کشمیریوں کو انصاف دینے کے بجائے ان پر گولیاں چلاتا ہے، ماحولیاتی محافظوں کو قید کرتا ہے اور ثقافتوں کو مٹاتا ہے۔آج لداخ کی آواز پوری دنیا کو پکار رہی ہے:”ہمیں ہمارے حقوق دو، ہمیں جینے کا حق دو، ہمیں اپنی سرزمین اور اپنی شناخت کے ساتھ آزاد چھوڑ دو۔”لداخ کا زخم بھارت کے چہرے پر ایک ایسا داغ ہے جو وقت کیساتھ مزید گہرا ہوتا جائے گا، جب تک کہ انہیں انصاف فراہم نہ کیا جائے۔لہہ ایپکس باڈی کا بھارتی حکومت کیساتھ مذاکرات سے الگ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ لداخ اب اپنی آئینی حیثیت کی بحالی، زمین اور شناخت کے تحفظ ، اور مقامی حقوق کیلئے مزاحمت کی راہ پر گامزن ہے۔ چیرنگ دورجے لکروک اور دیگر رہنما یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگربھارت نے لداخ کے عوامی جذبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔لداخ کا معاملہ اب نہ صرف ایک علاقائی حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ یہ بھارت کے اندر وفاقی ساخت، ثقافتی تنوع اور جمہوریت کے مستقبل کیلئے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔لداخی عوام کیساتھ اس ناانصافی پر جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت اضطراب کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں اب بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔حتی کہ آر ایس ایس اور شیو سینا بھی مودی حکومت کو صلواتیں سنا رہی ہیں۔نیشنل کانفرنس کے رہنما اور بھارتی ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کا یہ جملہ مودی اور اس کے جنگی جنونیوں کے ان دعوئوں پر کاری چوٹ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام 05اگست2019 کے غیر قانونی ا ور غیر آئینی اقدامات کی قیمت چکارہے ہیں۔ساتھ ہی لداخ کی موجودہ صورتحال مقبوضہ جموں و کشمیر میں معمول کے حالات کے بھارتی بیانیے کے بخیے ادھیڑنے کیلئے کافی ہیں،جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جس امن کا دعوی کرتا ہے،وہ ہنڈیا روز وادی کشمیر اور جموں کے بعد اب لداخ میں بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button