جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تنازعہ کشمیر کامنصفانہ حل ناگزیر ہے، حریت کانفرنس
سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو تسلیم شدہ متنازعہ علاقے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے سے روکے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوں کا مستقبل اپنی خواہشات اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل سے وابستہ ہے ۔انہوں نے واضح کیاکہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ تنازعہ کشمیر کی فریق تین ایٹمی طاقتیں پاکستان، بھارت اور چین ہیں جہاں دنیا کی تقریبا نصف آبادی آباد ہے۔حریت ترجمان نے جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کوجدید دور کی استعماریت کا بدترین مظہرقرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ پرزوردیاکہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بھارت پر دبائو بڑھائے ۔انہوں نے کہاکہ 1946کے بعد سے80سابقہ نوآبادیوں(کالونیوں) نے آزادی حاصل کی ہے،تاہم کشمیریوں اور فلسطینیوں سمیت اب بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں اپنے آج بھی اپنے حق خود ارادیت سے مسلسل محروم ہیں۔حریت ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیریوں کوانکے حق خود ارادیت کی ضمانت فراہم کی گئی اور کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقل کا حتمی فیصلہ اس کے عوام آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کی ان قراردادوں کو بھارت اور پاکستان دونوں نے قبول کیا تھااور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25کے تحت دونوں فریق ان قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔تاہم انہوں نے کہاکہ 77سال سے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار ہے اور فوجی طاقت کے ذریعے جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دے رہا ہے ۔1947سے اب تک بھارتی قابض فوج حق خودارایت کا مطالبہ کرنے پر لاکھوں کشمیریوں کو قتل کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر دنیا کا واحد علاقہ جہاں سب سے بڑی تعداد میں قابض فوجی تعینات ہیں ،جو جعلی مقابلوں ، محاصرے اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں کے ذریعے کشمیریوںکا ماورائے عدالت قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔





