APHC

مودی کی ہندوتوا حکومت کشمیری نظربندوں کو جیلوں میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہی ہے

image_2023-11-21_113655739سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مختلف حیلے بہانوں سے جیلوں میں حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربندی کوطول دینے پر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جس طرح کشمیری سیاسی نظربندوں کوجو، ضمیر کے قیدی ہیں انتقامی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ کئی معمر رہنما اور کارکن متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں تاہم انہیں علاج معالجے کی بنیادی سہولت سے بھی محروم رکھا جارہا ہے ۔حریت ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان اور تہاڑ، آگرہ، جودھ پور، کرنال اور دیگر بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیری حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی ثابت قدمی کو سراہا جن کا واحد جرم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرناہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں نہتے کشمیریوں کی زندگیوںکو جہنم بنادیا ہے جہاں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے ، ای ڈی اور ایس آئی اے کو کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کیلئے ایک ہتھیارکے طورپر استعمال کیاجارہا ہے ۔ حریت ترجمان نے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی جاری کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیریوںسے زندہ رہنے سمیت سمیت ہر حق ان سے چھین لیا ہے اور اس کی کٹھ پتلی ہندوتوا حکومت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس سے متاثرہندوتوا ذہنیت کے حامل آر آر سوین کے کشمیر پولیس کے سربراہ بننے کے بعد سے خوف ودہشت کی بدترین صورتحال نے کشمیریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔حریت ترجمان نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنمائوں اور کارکنوں کے قابل رحم حالت کا نوٹس لیں اور انکی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d