بھارت

بھارت :دلت پولیس افسر کی المناک موت ادارہ جاتی امتیازی سلوک کا نتیجہ ہے:: راہول گاندھی

چنڈی گڑھ: بھارت میں کانگریس کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے چندی گڑھ میں آنجہانی دلت پولیس افسر وائی پورن کمار کے اہل خانہ سے ملاقات کی جنہوں نے ادارہ جاتی امتیازی سلوک کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہول گاندھی نے پورن کمار کی اہلیہ اور بیٹیوں سے اظہارتعزیت کیا اور سینئر افسر کے خودکشی نوٹ میں نامزد تمام افسروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ پورن کمار کے حوصلے پست کرنے اور ان کے کیریئر کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کے خلاف منظم طریقے سے امتیازی سلوک روا رکھا گیا، ان کی موت کے بعد بھی ان کے اہلخانہ کو مسلسل دبا ئوکا سامنا ہے۔پورن کمار2001بیچ کے آئی پی ایس افسرتھے جنہیں 7اکتوبر کو اپنے چندی گڑھ کے گھر میں مردہ پایاگیا اوران کے جسم پر گولی لگنے کے زخم موجودتھے۔ ان کے آٹھ صفحات پر مشتمل خودکشی نوٹ میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک ،ذہنی ہراسانی، تذلیل اورمظالم کا ذکر تھا جس میں ہریانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شتروجیت سنگھ سمیت11اعلی پولیس افسران کے نام درج ہیں۔ راہول گاندھی نے پورن کمار کے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے بھارت میں دلت برادری کے لئے ایک پریشان کن پیغام ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے کروڑوں دلت بھائی بہن دیکھ رہے ہیں۔ دلتوں کو ایک غلط پیغام گیا ہے کہ آپ چاہے کتنے ہی ذہین، قابل، یا کامیاب کیوں نہ ہوں، اگر آپ دلت ہیں، تو آپ کو دبایا اورکچلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ چند دنوں کا معاملہ نہیں بلکہ برسوں سے ایک منظم کوشش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ہریانہ کے وزیر اعلی نایاب سنگھ سینی پر زور دیا کہ وہ اس ڈرامے کو ختم کریں اورلوگوں کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے پورن کمارکی موت کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ خاندان پر سے دبا ئوختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کے وزیر اعلی کی طرف سے تین دن پہلے ملزمان کے خلاف کارروائی کے وعدے کے باوجود ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button