مضامین

شہدائے کشمیر کی قربانیاں اور آج کا المیہ

چوھدری تنزیر اقبال

آزاد کشمیر کے اندر تنائو کی موجودہ صورتحال دیکھ کر دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے شہدائے کشمیر کے چہرے آتے ہیں جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ نوجوان یاد آجاتے ہیں جو اپنے خواب، اپنی خواہشیں اور اپنی زندگیاں قربان کر گئے تاکہ آنے والی نسلیں آزادی کی فضا میں سانس لے سکیں۔مقبوضہ کشمیر کی وادیوں میں ایسی سینکروں مائیں موجود ہیں جن کے بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے قبروں میں جابسے ۔ ایسی بہنیں ہیں جن کے بھائی آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایسے بچے ہیں جو اپنے شہید باپ کی تصویر کو سینے سے لگا کر بڑے ہو رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر دن ایک نئی آزمائش اور ہر رات ایک نئی جدائی کی داستان ہے۔
جب کوئی کشمیری ماں اپنے شہید بیٹے کی تصویر کو دیکھ کر آنسو بہاتی ہے تو اس کے دل میں صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔ جب کوئی بہن اپنے بھائی کی یاد میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو اس کی دعا صرف اپنے خاندان کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کی آزادی کے لیے ہوتی ہے۔مگر آج جب ہم اپنے اردگرد انتشار، نفرت اور تقسیم دیکھتے ہیں تو دل یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے ان شہدا کی قربانیوں کو فراموش تو نہیں کر دیا؟ کیا ہم نے ان مائوں کے آنسوں اور ان بہنوں کی دعاں کی قدر کی ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان کا خواب کیا تھا؟شہدائے کشمیر کا خواب ایک متحد، باوقار اور بیدار قوم تھا۔ ان کا خواب یہ نہیں تھا کہ ہم آپس میں بٹ جائیں، بلکہ یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور کشمیر کے عظیم مقصد کے لیے ایک آواز بن کر کھڑے ہوں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شہدا کے لہو کی حرمت کو یاد رکھیں، ان ماں کی سسکیوں کو سنیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، اور ان بہنوں کے آنسوں کو محسوس کریں جو برسوں سے اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ اٹھا رہی ہیں۔ یہی احساس ہمیں اتحاد، برداشت اور اپنے قومی مقصد سے وفاداری کا راستہ دکھا سکتا ہے۔اللہ تعالی تمام شہدائے کشمیر کے درجات بلند فرمائے، ان کی ماں، بہنوں اور اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے، اور ہمیں ان کی قربانیوں کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button