نئی دلی:انتہاپسند ہندوﺅں نے مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کو قتل کر دیا

نئی دلی: بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں ہندو تہوار دیوالی کی شب انتہاپسند ہندوﺅں کی بہیمانہ مارپیلٹ سے شدید زخمی ہونے والا مسلم نوجوان ہسپتال میںچل بسا۔ نوجوان کی موت نے مسلم برادری میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سلمان نامی نوجوان جو پیشے سے اسکراپ ڈیلر تھا ، ہندو توا غنڈوں کی مارپیٹ سے شدید زخمی ہوا تھا اور دوروز بعد ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا ۔
سلمان کے بھائی عنان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسکا بھائی دیوالی کی رات اپنے دوستوں کے ہمراہ بازار میں ویڈیو بنا رہا تھا کہ ہندو ونوجوانوں کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہاںموجود پولیس اس دوران خاموش تماشائی بن رہی اور کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہندو نوجوانوں نے سلمان کو بے رحمی سے مارا پیٹا۔ متاثرہ خاندان والوں کا کہنا ہے کہ سلمان کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ علاقے کے مسلمانوں نے سلمان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے واقعے کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایک مقامی فلاحی کارکن راشد علی نے کہا کہ ہم(مسلمان) اپنے ہی ملک میں بیروانی افراد بن کر رہ گئے ہیں اور اکثریتی برادری کے ناروا سلوک سے تنگ آچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ دیوالی کے موقع پر ایک نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا گیا لیکن اسکے باوجود امن و اتحاد کی بات کرنے والے خاموش ہیں۔مسلم ایڈووکیٹ سمیر خان نے کہا کہ یہ محض دو گرپوں کے درمیان لڑائی نہیں ہے بلکہ دلی میں مسلمانوں کیلئے بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور سیکورٹی کے فقدان کی عکاسی ہے۔KMS-02/M






