کشمیری تارکین وطن

عالمی برادری جموں و کشمیر پر بھارت کے فوجی قبضے کو ختم کرانے کے لیے اقدامات کرے: مقررین سیمینار

واشنگٹن:ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم نے امریکی شہر اسپرنگ فیلڈ ورجینیا میں یوم سیاہ کی مناسبت سے” 27 اکتوبر کا المیہ جب کشمیر پر قبضہ کیا گیا تھا” کے عنوان سے ایک سیمینارمنعقد کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیمینار میں ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں اورصحافیوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کے مقررین نے تنازعہ کشمیر کے تاریخی اور سیاسی پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لئے اقدامات کرے۔تقریب کا آغاز آٹھ سالہ بچے انس رحمن کی تلاوت قرآن پاک اور صحافی جاوید کوثر کی نعت رسول سے ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے مشیر سردار ظریف خان نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور سیمینار کا مقصد بیان کیا۔و رلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر نے 27اکتوبر 1947کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلے عام حملے سے پہلے بھارت نے جموں وکشمیر میں جاسوسی کی خفیہ کارروائی کی جس کے بعدجموں میں نسل کشی شروع کی گئی جس میں237,000سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیری پاکستان بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل عام کو بھارت کی پٹیالہ سکھ رجمنٹ اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ملیشیا نے مہاراجہ ہری سنگھ کی افواج کی مدد سے انجام دیا تھا۔ تب سے کشمیریوں نے قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ بار کے رکن مواحد حسین شاہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اصل جنگ ذہنوں سے لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے کشمیر کاز میںجذبہ، توانائی اور جوش بھرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ نے کشمیر کے مقدمے کی وکالت کے لیے مزید مواقع پیدا کئے ہیں۔ کامن گرائونڈز امریکہ کے بانی ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی نے کہا اگر اقوام متحدہ مشرقی تیمور، جنوبی افریقہ اورفلسطین میں کام کر سکتا ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں؟ امن کی وادی کو خاموشی کی وادی کیوں رہنا چاہیے؟ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معصوم اور نہتے کشمیریوں کی مشکلات کو ختم کرانے کے لیے انسانی بنیادوں پر مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے تیسرے فریق کی ثالثی ناگزیر ہے جس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ جوہری تصادم کو روکنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔کشمیری نژاد امریکی سکالر ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ساکھ دائو پر لگی ہوئی ہے کیونکہ بھارت اس کی قراردادوں کو نظر انداز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پرپابندیاں عائد کرے اور اپنے وعدوں سے مکرنے پر اس کا محاسبہ کرے۔مباحثے میں مسجد الحسین کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر اقبال نوری ،کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سردار شعیب ارشاد ،زاہد حسین، سید ادیب، علی عمران، اسفر امام، جاوید کوثر اورعتیق سدوزئی نے بھی حصہ لیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button