کشمیر بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ، شیری رحمان
شیری رحمان نے بھارتی ریاستی دہشتگردی سے متعلق کے ایم ایس کے اعدادوشمار کا حوالہ دیا

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنماء سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ جہاں دنیا کے سب سے طویل جبری قبضے کے دوران کشمیریوں کی مسلسل نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیری رحمان نے اسلام آباد میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت کے وحشیانہ مظالم اورریاستی دہشت گردی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو طویل عرصے سے بھارت کے غیر قانونی اور وحشیانہ تسلط کا سامنا ہے ۔انہوں نے کشمیریوں کی منصفانہ تحریک آزادی میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔شیری رحمان نے کشمیر میڈیا سروس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 1947سے اب تک مقبوضہ کشمیرمیں 5لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ بے گھر ہو ئے ہیں۔1989 سے اب تک ایک لاکھ68ہزار سے زائد کشمیریوں کو جبری طور پر گرفتار جبکہ ایک لاکھ 10ہزار سے زائد گھروں کو تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس دوران 22ہزار963خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ11ہزار259خواتین کو جنگی ہتھیار کے طور پر ریپ یا زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہاکہ بھارتی فورسز کی طرف سے مہلک پیلٹ گنز کے استعمال سے مقبوضہ کشمیرمیں 12سو سے زائد بچے بصارت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل ہے اور بھارتی ریاستی دہشتگردی کے یہ اعداد و شمار ٹوٹے ہوئے جہان، چوری شدہ بچپن اوربرباد خاندانوں کی داستان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی ساز ش کی جارہی ہے جو جنیوا کنونشنز، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔شیری رحمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خاتمے ،شہری آزادیوں کی بحالی، بین الاقوامی رسائی اور کشمیری عوام کوانکا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دلوائے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے اپنی متعلقہ قراردادوں میں ان سے کیاتھا۔




