مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر: بھارتی فورسز نے "کشمیری بی کوئین”ثانیہ زہرا کوہراساں کیا اور ذہنی اذیت کانشا نہ بنایا

سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ”بی کوئین”کے نام سے مشہور ثانیہ زہرا نے ضلع اسلام آباد میں بھارتی فورسز کی طرف سے ہراسگی اور بدتمیزی کی شکایت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ثانیہ زہرانے جو شہد کے کاروبار سے وابستہ ہیں کہاہے کہ حالیہ دنوں میں ضلع اسلام آباد میں ان کے بی فارم کے قریب بھارتی فورسز نے تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران نہ صرف انہیں اورانکی ٹیم کو حراساں کیابلکہ ان سے بدتمیزی کی اور گالیاں بھی دیں ۔ انہوں نے کہاکہ فوجی کارروائی کے دوران انہیں شدید ذہنی اذیت اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ زہرا نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی۔جو بہت تیزی سے وائرل ہو گئی اور عوامی سطح پربھارتی فوجیوں کے طرز عمل پر شدید غم و غصہ ظاہر کیاجارہاہے ۔ویڈیو میں ثانیہ زہرا نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے انہیں ہراساں کرنے اور گالیاں دینے کی تفصیلات بیان کیں، جس سے مقبوضہ کشمیر میں عوام پر بھارتی فورسز کی طرف سے جاری ظلم و جبر کی حقیقت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔اس ویڈیو سے مقبوضہ کشمیرمیں خاص طورپر خواتین کے ساتھ بھارتی فوجیوں کی طرف سے روا رکھے گئے بدترین سلوک کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ثانیہ زہرا کے ساتھ پیش آنے والا سانحہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے بدترین سلوک یا انہیں ہراساں کرنے کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔حالیہ برسوں کے دوران انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے اپنی رپورٹوںمیں بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں بالخصوص خواتین کے خلاف بڑے پیمانے پر ظلم وتشدد،جنسی حملوں ، زیادتیوں اور استحصال کاانکشا ف کیا ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح نشانہ بن رہی ہیں۔ کشمیری خواتین کو گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہراسگی، بدسلوکی اور جنسی تشدد کا سامنا ہے، خاص طور پر 1989کے بعد سے،بھارتی فوجی اکثر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران خواتین کو انسانی ڈھال اور بدسلوکی کانشانہ بناتے ہیں۔اس واقعے سے مقبوضہ کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی پتہ چلتا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button