یوگی آدتیہ ناتھ کی مذہبی انتہاپسندی :مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے حلال سرٹیفیکیشن کو دہشتگردی سے منسلک کر دیا
لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حلال سرٹیفیکیشن جیسے جائز اسلامی مذہبی عمل کو دہشت گردی سے منسلک کر دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے حلال فنڈز کو دہشتگردی اور مذہب کی جبری تبدیلی کے لیے استعمال ہونے کا جھوٹا دعوی کرکے ریاست کے لاکھوں مسلمانوں کے جائز اسلامی عمل کو جرم میں بدل دیاہے۔سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان محض سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ مسلمانوں کو زیر کرنے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی کی منصوبہ بند حکمت عملی کاحصہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، تعصب اور ریاستی جبر کو جائز قرار دینے کی ایک کوشش ہے۔ناقدین کے مطابق اس بے بنیاد الزام کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا اور ان کے مذہبی و سماجی حقوق پر قدغن عائد کرنا بھی ہے۔یوگی حکومت کی اس حکمت عملی کامقصدمسلمانوںکو خوفزدہ کرنے اور ان کی مذہبی آزادی سلب کرنا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق حلال سرٹیفیکیشن ایک جائز مذہبی اور تجارتی عمل ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان خوراک اور مصنوعات کے مذہبی معیار کے مطابق ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یوگی حکومت نے اسے دہشت گردی سے جوڑ کر لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو جرم میں بدلنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ خود کو "ہندوتوا” نظریے کا علمبردار سمجھتے ہیں اوربھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوںکے خلاف نفرت انگیز ماحول کو مزید بڑھا رہے ہیں۔اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے بین الاقوامی ادارے پہلے ہی یوگی حکومت کو مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی تشددمیں ملوث قرار دے چکے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مذہبی شناخت پر حملے اور عبادات کو جرم میں بدلنے کا رجحان نہ صرف بھارت کے آئین بلکہ عالمی نسانی حقوق کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات سے بھارت میں بڑھتی ہوئی آمریت اور نظریاتی تعصب واضح ہوتا ہے ، جوقومی سلامتی کے نام پر اقلیتوں کو دبانے اور ان کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ، فاشسٹ نریندر مودی کی انتہاپسندانہ سوچ کے پیروکار ہیں اوراترپردیش میں کھلے عام ہندوتوا نسل پرستانہ نظام نافذ کر رہے ہیں۔








