بھارت کا آپریشن ترشول آپریشن سندور کی ناکامی کو چھپانے کی ایک اورکوشش ہے
پاکستان اپنی خودمختاری، سمندری حقوق اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے

اسلام آباد:بھارت نے آپریشن سندور میں اپنی ذلت آمیزشکست کو چھپانے کے لئے آپریشن ترشول کے نام سے ایک اور پروپیگنڈہ مہم شروع کردی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی تینوں مسلح افواج کی مشق” ترشول ” معمول کے مطابق شروع ہوئی تھی اوربھارتی میڈیا نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اسے ایک آپریشن میں تبدیل کر دیا ہے جو ایک ڈرامہ ہے جس کا مقصد عوامی تاثرات کوتبدیل کرنا اور پاکستان کی مغربی سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ آپریشن ترشول کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کا مقصد آپریشن سندورکی شرمندگی کو چھپانا اور ابہام اور خوف پیدا کرنا ہے تاکہ تیاری کی آڑ میں بھارت کی اگلی فوجی اشتعال انگیزی کا جوازپیدا کیا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق سر کریک کے قریب ساحلوں پر فوج کی تعیناتی، شمالی بحیرہ عرب میں بحری اور فضائی اثاثوں کی توسیع اور راجستھان میں مشترکہ فورس کی مشقیں سمندری حدود کی ازسرنو تشکیل اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے پاکستان پر دبائو ڈالنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔تھیٹرائزیشن اورکولڈ سٹارٹ کے بیانیے کی آڑ میں یہ اقدامات اعتماد سازی کے بجائے بھارت کی جبر کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان اپنے شہری اداروں بشمول وزارت توانائی اور اوگرا کے ذریعے خود مختار توانائی کی سفارت کاری کو برقرار رکھتا ہے اورشفافیت اور بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کو یقینی بناتا ہے۔ اس کی ساحلی تعیناتی دفاعی نوعیت ، قانون کی پاسداری اور ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی فوجی سفارت کاری اورآپریشن ترشول کے تحت میڈیا پروپیگنڈے کا استعمال علاقائی عدم استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔ایک سینئر سیکیورٹی ذریعے نے کے ایم ایس کو بتایاکہ بھارت اور بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان فیصلہ کن اور متناسب طریقے سے جواب دے گا جو بھارتی عزائم کو اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے بے نقاب کر چکا ہے۔پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، سمندری حقوق اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم اور چوکس ہے۔






