بھارتی آرمی چیف کا مذہبی استقبال فوج کی زعفرانیت کی عکاسی کرتا ہے
نئی دہلی:بھارتی آرمی چیف کے اپنے آبائی شہر کے دورے کے دوران ایک برہمن پجاری کی طرف سے ہندوتوانعروں کے ساتھ ان کے خیرمقدم کے بعد بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی سیاست اور فرقہ واریت پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق معروف ماہر تعلیم اور تجزیہ کار پروفیسر اشوک سوین نے ایکس پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا آرمی چیف اب بھی بھارت کے سیکولر آئین پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مذہبی تقریبات مسلح افواج کے عقیدے اور سرکاری طور پر سیکولرنوعیت کے درمیان لائن کو دھندلا دیتی ہیں۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ واقعہ مسلح افواج سمیت ریاستی اداروںکے اندر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندوتوا نظریے کے گہرے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے جو روایتی طور پر مذہبی غیر جانبداری کو برقرار رکھتی ہیں۔مبصرین نے خبردار کیا کہ اعلی فوجی حکام کی طرف سے ہندو رسومات کی عوامی نمائش بھارت کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے سیکولر کردار کو مجروح کرتی ہے اور مذہب کو قوم پرستی کے ساتھ ملانے کے بی جے پی کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جبر کے دوران ہندوتوا کے بیانیے کے ساتھ فوجی قیادت کی بڑھتی ہوئی قربت سے ادارہ جاتی سالمیت اور علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔






