امریکی ٹیرف کے بعدبھارت کی برآمدات میں 37.5فیصد کمی واقع ہوئی

نئی دہلی:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے تحت واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف میں زبردست اضافے کے بعد مئی اور ستمبر 2025کے درمیان امریکہ کو بھارت کی برآمدات میں 37.5فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ صرف پانچ مہینوں میں بھارتی برآمدات8.8 ارب امریکی ڈالر سے کم ہو کر 5.5ارب امریکی ڈالر رہ گئی جوحالیہ برسوں میں تجارت میں سب سے زیادہ قلیل مدتی گراوٹ ہے۔جی ٹی آر آئی کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ امریکی ڈیوٹی نے جو اپریل میں 10فیصد سے شروع ہوئی تھی اور اگست کے آخر تک 50فیصد تک پہنچ گئی ، بھارت کے اہم برآمدی شعبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔صرف سمارٹ فون کی ترسیل 58فیصد تک گر گئی ،مئی میں 2.29ارب امریکی ڈالر سے ستمبر میں 884.6 ملین ڈالرجبکہ دواسازی کی برآمدات میں تقریبا 16فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔جواہرات اور زیورات کی برآمدات خاص طور پر سورت اور ممبئی سے تقریبا 60 فیصد گر گئی کیونکہ خریداروں نے تھائی لینڈ اور ویتنام کا رخ کیا۔ اسی طرح سولر پینلز کی برآمدات میں 60فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی جبکہ صنعتی دھاتوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات میں مجموعی طور پر 17فیصد کمی واقع ہوئی۔جی ٹی آر آئی نے کہا کہ ٹیرف سے مستثنیٰ مصنوعات کی برآمدات میں 47فیصد کمی بھارت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹیکسٹائل، کیمیکلز اور زرعی اجناس جیسے محنت کشوں کے شعبے کوبھی جو بھارت کی امریکی برآمدات کا 60فیصد ہیں، بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔تھنک ٹینک نے خبردار کیا کہ اگر ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو بھارت ویتنام، میکسیکو اور چین کے ہاتھوںبازار حصص کو کھو سکتا ہے۔ اس نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایمرجنسی کریڈٹ لائنز، تیزی سے ڈیوٹی ریفنڈز، اور لیکویڈیٹی پریشر کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو سود میں مدد فراہم کرے۔گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ ٹیرف نے نہ صرف بھارت کے تجارتی مارجن کو نچوڑ دیا ہے بلکہ اس کی کلیدی صنعتوں میں گہری کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔






