کشمیر کی زعفران کی فصل تباہی کے دہانے پر، پیداوار میں 90فیصدکمی واقع
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکا عالمی شہرت یافتہ زعفران کا شعبہ ایک سنگین بحران کا شکار ہے، جہاں کسانوں نے اس سال کی پیداوار میں 90فیصدتک کمی کی اطلاع دی ہے۔ اس صورتحال نے ہزاروں زرعی خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات میں دھکیل دیا ہے اور ایک ایسے ثقافتی ورثے کے مٹنے کا خطرہ پیداہو گیا ہے جو صدیوں سے کشمیر کی پہچان رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پامپور جو تاریخی طور پر "کشمیر کے زعفران کا مرکز”کہلاتا ہے کہ ایک کاشت کار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ رواں سال زعفران کی پیداوار صرف 10سے15فیصد تک رہی ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2030تک یہ منفرد فصل مکمل طور پر کشمیر سے ختم ہو سکتی ہے۔زعفران کے کاشت کاروں کی ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید وانی نے کہاکہ اس سال زعفران کے پودوں کی بالکل بھی نشونما نہیںہو سکی ہے ۔ پیداوار صرف 15فیصد ہے، جو گزشتہ سال کے 30فیصد سے بھی نصف کم ہے۔ ہر سال پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے اور حکومت اس شعبے کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔اس بحران نے نہ صرف کشمیر کی زراعت کو متاثر کیا ہے بلکہ ثقافت اور معیشت کے حوالے سے بھی سنگین مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ یہ تاریخی فصل معدوم ہونے سے بچ سکے۔






